پروین شاکر ہر دور کی محبتوں کی سفیر

پروین شاکر ہر دور کی محبتوں کی سفیر

مشرقی لڑکی ایک راز، ایک بند کلی کی مانند ہوتی ہے جس کو ہمارے معاشرے کے مطابق آج بھی محسوس کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر محسوس کرنے کا حق مل بھی جاۓ تو اسے بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بے حیا ہو گئی ہے یا بے شرم۔

آج سے بائیس سال قبل جب آج کے دور کی طرح نہ تو لوگوں کے پاس موبائل فون تھے اور نہ ہی سوشل میڈیا نے اتنی ترقی کی تھی کہ پوری دنیا ایک مٹھی میں سمٹ جاۓ ۔ ایسے وقت میں پروین شاکر ہاتھوں میں خوشبو تھامے آئی تو لوگوں نے جو کہ عورت کی خوشبو کو غیر مرد تک جانے پر جہنم کا فتوی واجب کر دیتے تھے پروین شاکر  کو بہت کچھ کہہ گۓ ۔

حیران آنکھوں ، شبنمیں رخساروں اور اداس مسکراہٹ والی اس لڑکی کا اعتراف ہے کہ اپنی شاعری میں اس نے جو بیان کیا وہ نیا نہ تھا ۔ ہر حساس دل کی کہانی ہے ۔ مگر اس حساس دل کی کہانی کو اظہار کی صورت دینا اور وہ بھی اس طرح کہ ہر لڑکی کو، ہر دوشیزہ کو، ہر ماں کو یہ لگتا ہے کہ یہ میری ہی کہانی ہے، یہ صرف پروین شاکر کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔

111

Source: Creato Fort

 

اپنے پہلے ہی شعری مجموعے خوشبو کے ذریعے تہلکہ مچا دینے والی شاعرہ  پروین شاکر کا آج یوم پیدائش ہے ۔ خوشبو، خودکلامی ،صد برگ اور انکار جیسے شعری مجموعوں کی خالق کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ عورتوں کے جذبوں ،ان  کے ان کہے لفظوں کو شعر کے قالب میں اس طرح ڈھال لیتی تھی کہ لگتا تھا کہ یہ ہر دور کی عورت کی آواز ہے۔

Source: Frontline Post

کچھ کم گوش یہ کہتے ہیں کہ پروین شاکر کی شاعری میں سواۓ بارش کی ہنسی، پھولوں کی مسکراہٹ، چڑیوں کے گیتوں اور اس کی اپنی سرگوشیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ مگر پروین شاکر کا کہنا تھا کے اگر زندگی سے محبت کرنا جرم ہے تو وہ پورے غرور کے ساتھ اس جرم کا اعتراف کرتی ہے ۔

اپنی پہلی کتاب کے دیباچے میں وہ لکھتی ہے محبت جب تقاضاۓ جسم و جاں سے ماورا ہو جاۓ تو الہام بن جاتی ہے ۔ حسن جب لطافت کی آخری حدوں کو چھولے تو خوشبو بن جاتی ہے ۔خوشبو حسن کی تکمیل ہے آپ سے بچھڑنے سے پہلے یہ لڑکی خوشبو کا تعارف پورے اعتماد سے کرارہی ہے

چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو

ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا

اور ایک اور جگہ وہ لکھتی ہیں،

عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی

اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

خوشبو کی یہ سفیر اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ،مگر ان کی معطر سرگوشیاں آج بھی ہمیں ان کی یاد دلاتی ہیں۔

To Top