مجبور کی مجبوری کی قیمت، صرف پانچ سو روپے

مجبور کی مجبوری کی قیمت، صرف پانچ سو روپے

وہ صبح سے فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا ۔ اس نے آج یہ تہیہ کیا تھا کہ خواہ اس کے لیۓ اس کو کچھ بھی کرنا پڑے آج وہ اتنے پیسے ضرور گھر لے کر جاۓ گا جس سے اس کی ماں کی دوا آسکے ۔رات بھر وہ کھانستی رہی تھی ۔ ایک پل کے لیۓ بھی نہ وہ خود سوئی نہ اس کی کھانسی کی آواز نے کسی کو سونے دیا ۔

پجھلے کچھ دنوں سے اس کا دھندا بھی مندا ہی چل رہا تھا جیسے ہی وہ منڈی میں کسی کا سامان اٹھانے بڑھتا لوگ اس کو پیچھے دھکیل دیتے تھے کہ رہنے دو ہم خود اٹھا لیں گے ۔رو پیٹ کر صرف اتنے ہی پیسے روز بنتے جس سے اس کے گھر کا ایک وقت کا کھانا بھی بمشکل پورا ہوتا ۔


مگر اب اس نے سوچا تھا کہ اسے کچھ بھی کرنا پڑے وہ کرے گا مگر آج دوائی کے پیسے وہ گھر ضرور لے کر جاۓ گا ۔ماں کی دوا کے لیۓ اس کو پانچ سو روپے چاہیۓ تھے وہ اٹھا اور چلتا چلتا اس حصے کی جانب آگیا جہاں ٹرکوں سے سامان اتارا جاتا تھا ۔

اس نے سوچا کہ اگر اس کو سامان اتارنے کا بھاری کام بھی مل گیا تو وہ اس کو کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ پانچ سو روپے کما سکے مگر اس جگہ پر جوان لوگوں کے ہوتے ہوۓ کسی بچے کو کون پوچھتا صبح سے دوپہر ہو گئی مگر اس کو کوئی کام نہ مل سکا ۔

وہ مایوس ہونے لگا تھا اسی وقت اس کو اپنے کندھوں پر کسی کے ہاتھ کی گرفت محسوس ہوئی ۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ کسی ڈرائيور کا کلینر تھا اس نے کہا کہ تمھیں استاد بلا رہا ہے ۔جب وہ استاد کے پاس پہنچا تو استاد ٹانگیں پسارے ہوٹل والے کی چار پائی پر لیٹا ہوا تھا اسے دیکھتے ہی اس نے اپنی ٹانگیں سمیٹیں اور اپنے پیروں کی جانب بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔

وہ جھجھکتے ہوۓ بیٹھ گیا ۔استاد نے اس سے پوچھا کہ کیا تمھیں کام چاہیۓ اس نے فورا اثبات میں سر ہلا دیا استاد نے پوچھا کہ کیا کام کر سکتے ہو اس نے اپنی مجبوری کو دیکھتے ہوۓ کہا سب کچھ کر سکتا ہوں جو آپ کہیں گے ۔

مگر اس کو آج پانچ سو روپے چاہیۓ تھے  جس کے لیۓ وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا  استاد نے اس کو معنی خیز نظروں سے دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور پھر پوچھا کچھ بھی کر لو گے اس نے تیزی سے سر ہلایا کہ ہاں جی کچھ بھی بس مجھے میری ماں کی دوا کے لیۓ پانچ سو روپے گھر لے کر جانے ہیں

استاد نے اس کا ہاتھ تھاما اور اس کے ہاتھ پر پانچ سو روپے رکھ دیۓ جس کو اس نے کس کر اپنی مٹھی میں بند کر لیۓ  اور اس کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا وہ خوشی خوشی تیار ہو گیا ۔ استاد اس کو اس ہوٹل کے ساتھ بنے ایک کمرے میں لے گیا اور اس کا دروازہ اندر سے بند کر کے کپڑے اتارنے کو کہا وہ ایک دم ٹھٹک گیا

اس کو اپنی ماں کی بات یاد آگئی جو کہتی تھی کہ بیٹا غلط کام کر کے پیسے کمانے سے بہتر ہے کہ بندہ بھوکا مر جاۓ ۔ اس نے جب ایسا کرنے سے انکار کیا تو استاد غضب ناک ہو گیا اس نے اس کو گالی دیتے ہوۓ کہا کہ پھر پانچ سو روپے کیسے کماۓ گا ۔

اس کے بعد استاد نے زبردستی اس کے کپڑے اتارنے شروع کر دیۓ ۔شہوت کی بھوک میں مبتلا ایک جانور کے سامنے اس معصوم بچے کی کہاں چلنی تھی ۔ وہ روتا چلاتا رہا مگر استاد پر اس وقت جنون سوار تھا اس نے اس کی ایک نہ سنی ۔اس کے جسم سے درد کی لہریں نکل رہی تھیں مگر استاد نے اس کے منہ کو اس طرح دبوچا ہوا تھا کہ اس کی آواز تک نہیں نکل رہی تھی ۔

پھر ایک وقت آیا جب اس کے ذہن نے کسی بھی درد کو برداشت کرنا بند کر دیا ۔ اب اس کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں اس کے ہاتھ پاؤں بے جان ہونے لگے تھے مگر استاد کی وحشت کسی صورت کم نہیں ہو رہی تھی وہ جانوروں کی طرح اس کو بھنبھوڑ رہا تھا ۔

جب استاد ہوش میں آیا تو اس نے دیکھا کہ وہ بچہ اب دوبارہ ہوش کی وادیوں میں آنے کے قابل نہیں رہا ۔اس نے اس بچے کی لاش کو چادر میں لپیٹ کر اپنی گاڑی میں ڈالا اور شہر کی ایک کچرہ کنڈی میں پھینک آيا ۔ اگلے دن جب اس کی لاش دریافت ہوئی تو لاش اس کی بیمار ماں کے حوالے کی گئی ۔

وہ پانچ سو کا نوٹ بھی اس کی ماں کو دیا گیا جو اس کی مٹھی ہی میں رہ گیا تھا مگر کجھ ہی دیر بعد ایک پولیس والا اس کی ماں کے پاس آیا اور اس کو کہنے لگا کہ اس نے اس کے بیٹے کی لاش دریافت کی ہے اس کے انعام کے طور پر اس کو وہ پانچ سو کا نوٹ تو دے دے

To Top