پاکستان سے اغوا کیۓ جانے والے معصوم بچوں کو سعودی عرب لے جا کر کیا کیا جاتا ہے ایک ہولناک اور مکروہ دھندے کا انکشاف

پاکستان سے اغوا کیۓ جانے والے معصوم بچوں کو سعودی عرب لے جا کر کیا کیا جاتا ہے ایک ہولناک اور مکروہ دھندے کا انکشاف

پاکتسان کے اندر معصوم بچوں کے ساتھ کیۓ جانے والے ہولناک جرائم کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے کبھی تو ان بچوں کو بردہ فروشی کے لیۓ اغوا کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد ہاتھ پاؤں توڑ کر ان سے بھیک منگوائی جاتی ہے تو کبھی معصوم بچیوں کو اغوا کر کے ان کے ساتھ تشدد کر کے ان کے ساتھ جنسی زيادتی کر کے ان کی لائيو ویڈیوز کو ڈارک ویب پر اپ لوڈ کر لیا جاتا ہے ۔

حال ہی میں مووی چینل ایچ بی او پر رئیل اسپورٹس کے نام سے ایک ڈاکومنٹری دکھائي گئي جس  کی تیاری پندرہ سال کی کوششوں کے بعد ممکن ہو سکی اس ویڈیو میں سعودی عرب میں ہونے والی اونٹوں کی دوڑ کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ یہ دوڑ باقی تمام کھیلوں سے اس لیۓ مختلف ہے کہ اس میں اونٹوں کو دوڑانے کے لیۓ پیشہ ور جوکیز کے بجاۓ معصوم کمسن بچوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ وزن میں کم ہوتے ہیں ۔

ان کو اونٹوں پر بٹھا کر باندھ دیا جاتا ہے جب یہ بچے خوفزدہ ہو کر چیختے چلاتے ہیں تو ان کے رونے کی آواز اور ان کے مچلنے سے اونٹ بدک کر تیز بھاگتے ہیں ۔اونٹوں کے اس طرح بے ہنگم دوڑنے کا براہ راست اثر ان بچوں کی ریڑھ کی ہڈی پر پڑتا ہے جس سے یا تو وہ ریس کے دوران ہی جاں بحق ہو جاتے ہیں اور اگر زندہ بچ بھی جائیں تو یا تو ساری عمر کے لیۓ مفلوج ہو جاتے ہیں یا پھر عرب شیخوں کے غلام کی حیثیت سے باقی زندگی گزارنے کے لیۓ مجبور ہو جاتے ہیں ۔

غلام بچوں کے ساتھ بدترین غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے ان کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان سے جنسی زيادتی بھی کی جاتی ہے ۔ اس سارے عمل کے بارے میں سعودی حکومت کی خاموشی اور اس بات کو میڈیا سے پوشیدہ رکھنا اس عمل کو مذید مجرمانہ بنا رہا ہے ۔

اپنی تفریح طبع کے لیۓ بچوں کا یہ استعمال انسانی حقوق کے مطابق نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ اس عمل کی اسلام میں بھی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اسلام پندرہ سو سال قبل علامی کی زنجیروں کو توڑ چکا ہے مگر ان معصوم بچوں کو غلام بنا کر ان کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک ہم سب کے لیۓ ایک سوالیہ نشان ہے ۔

اس حوالے سے انسانی حقوق کے نمائندے انصار برنی سے جب بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے میں ان عرب شیخوں کو سرکاری پشت پناہی حاصل ہے جب کہ عرب شیخوں کا یہ کہنا تھا کہ ماضی میں اس دوڑ کے لیۓ بچوں کا استعمال ضرور کیا جاتا تھا مگر اب اس دوڑ کے لیۓ بچوں کی جگہ روبوٹس نے لے لی ہے ۔

چند پیسوں کے لیۓ کسی کے بچے اغوا کر کے ان کو اس طرح بیچ دینا اور پھر ان کے ساتھ یہ سلوک اب بین الاقوامی میڈیا کا حصہ بن رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار اس ویڈیو کو جس کی نمائش کی بھی پاکستان میں پابندی ہے دیکھیں اور اس کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات کریں

To Top