پاکستانی عوام کتنے سموسے کھاۓ گی ؟

پاکستانی عوام کتنے سموسے کھاۓ گی؟

سموسے  کی ضرورت دس صدی پہلے مشرق وسطٰی میں محسوس کی گئی۔ مشرق وسطی اور وسطی ایشیاکے سلطان کے باورچی نے ہجرت کی تو وہ مسلمان دہلی سلطنت کے خاندانوں کے درمیان جنوبی ایشیاء میں سموسہ متعارف کرا گئے۔

ناشتے کے طور پر شروع ہونے والی اس مصالحہ بھری پیسٹری نے خود کو صرف ناشتے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کی کئی اقسام تو اتنی مشہور ہو گئيں کہ ان کے بغیر عصرانے کا تصور بھی محال ہو گیا ہے ۔

سموسے  کی کئی اقسام ہیں جو کہ اس کے اندر بھرے جانے والے مصالحے کے سبب کی گئی ہیں ۔ان میں سب سے مشہور تو آلو والے سموسے ہیں اس کے ساتھ ساتھ قیمے ،چکن اور مچھلی والے سموسے بھی بازار میں موجود ہیں ۔

انواع اقسام کے سموسے لوگوں کی بھوک بڑھانے کا سبب بنتے ہیں اور اس کے بعد ان کا کم قیمت ہونا غریبوں اور امیروں سب کی پسندیدہ غذا بناتا ہے ۔

34

لوگ اس کے حوالے سے الگ الگ قسم کی داستانیں بھی بیان کرتے ہیں مغرب والے بھی مشرق کی اس لذیذ پیسٹری کے حوالے سے کافی تجسس کا شکار رہے ہیں تبھی ان کے حوالے سے ایک لطیفہ خاص طور پر مشہور ہے ایک انگریز سائنسدان پاکستان کی سیر کو آیا۔جاتے وقت اس نے ایک دو کان پر جلیبی بنتی دیکھی۔ جلیبی بنتے دیکھ کر اُسے بڑا تعجب ہوا کہ یہ ایسے گول کیسے ہو جاتے ہیں اور پھر طرہ یہ کہ اس کے اندر شیرہ بھی ہے آخر یہ اس کے اندر کیسے گیا۔

اس نے ایک کلو جلیبی پیک کروائی اور ساتھ لیکر اپنے ملک پہنچا۔ اپنے ملک پہنچ کر وہ جلیبی لیکر اپنی لیبارٹری پہنچا اور اپنے سینئر سائنسدان کو دکھایا کہ اس پر ریسرچ کریں کہ آخر جلیبی کے اندر شیرہ کیسے گیا۔؟
اس پر سینئر سائنسدان نے غصے سے اپنی دراز کھولی اور اس میں سے ایک سموسہ نکال کر اسے دکھاتے ہوئے کہا۔: بے وقوف ،ابے فضول خرچ، میں پانچ سالوں سے اس سموسے پر ریسرچ کر رہاہوں کہ اس کے اندر آلو کیسے گیا اور ابھی تک پتہ نہیں لگا پایا ہوں اور تو ایک نئی پریشانی لے آیا ہے۔

سموسے کی اتنی دہائيوں تک بقا کا ایک سبب اس کا حد درجے متنوع ہونا بھی ہے اس کے اندر بھرے جانے والے مصالحے میں آلو اور قیمے کی جگہ اب بہت ساری اور چیزوں نے لے لی ہے ۔اس میں پنیر کا استعمال اور لزیز کرنے کا سبب بنتا جارہا ہے ۔

35

سموسے سے پہلا تعلق انسان کا اسکول کے دور سے شروع ہوتا ہے ۔ اسکول کے بریک کے وقت گرم گرم سموسے کی لزت کا مقابلہ بڑے سے بڑے کھانے سے نہیں کیا جا سکتا ۔ بھوک سے قل ھو اللہ پڑھتی آنتوں کو جو سکون یہ سموسہ دیتا ہے اس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

اس کے بعد ہر ہر دور میں چاہے رمضان ہوں یا عام دن سموسے ہماری زندگی میں شامل رہے ہیں ۔اس کو کھانے کے لۓ وقت اور عمر کی کوئی قید نہیں اور اس کو ایک مکمل غذا کا درجہ حاصل ہے آج کل کے دور میں صحت کے حوالے سے حساس لوگوں کے لۓ گرل سموسے بھی تیار کۓ جا رہے ہیں جس میں چکنائی کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ۔

سموسے  کی ایک اور قسم میٹھا کھانے کے شوقین لوگوں کے لۓ بھی موجود ہے جس میں کھوا یا پھل بھر دیۓ جاتے ہیں ۔ گرما گرم سموسے چاۓ کے ساتھ ایک ایسا سماں باندھ دیتے ہیں کہ جس کو بیان کرنا مشکل ہے ۔

درست اندازہ لگانا تو ناممکن ہے مگر معاشیات کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر روز لاکھوں کی تعداد میں سموسے بناۓ اور کھاۓ جاتے ہیں ۔

To Top