پاگل سی دیوانی سی ایک لڑکی کی داستان

پاگل سی دیوانی سی ایک لڑکی کی داستان

صبح کی دھند بھری فضا میں کافی کا مگ اپنے ہاتھوں میں لۓ کھڑکی کے پاس کھڑا ہوں ۔باہر گرنے والی بوندوں نے سردی میں نہ صرف اضافہ کر دیا ہے بلکہ باہر کی فضا کو بھی دھو ڈالا ہے ۔

میرا ذہن اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ پاگل ہو چکی ہے ۔اس کا تعلیمی کیرئیر ااتنا شاندار تھا کہ وہ کسی پاگل کا نہیں ہو سکتا تھا ۔ہنستی مسکراتی پھولوں کی طرح کھلکھلاتی ہر جانب خوشبو کی طرح مہکتی وہ لڑکی آج گھر میں رسیوں سے بندھی ہوئی پڑی ہے ۔لوگ اس کو پاگل کہہ رہے ہیں مگر میرا دل چاہ رہا ہے کہ اس کو پاگل کہنے والوں کو دیوانہ کہوں ۔

01

 

وہ میری چھوٹی بہن کی دوست تھی مگر میرے لۓ چھوٹی بہنوں ہی کی طرح تھی جس طرح میں اپنی بہن کے نخرے اٹھاتا اس کے بھی اٹھاتا ۔وہ تھی ہی اتنی پیاری کہ جو دیکھتا بے ساختہ اس سے پیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ۔

جب وہ ہنستی تھی تو اس کے گالوں کے ڈمپل اس کی ہنسی کو اور مکمل کر دیتے تھے ۔ پہلی پوزیشن لینے کا تو اس کو جنون ہوا کرتا تھا ۔ہر امتحان میں اس کی بھوک پیاس سب اڑ جایا کرتی تھی اس کو صرف اتنا یاد رہ جاتا تھا کہ اس نے اول نمبر پر آنا ہے ۔

جس دن اس کا داخلہ میڈیکل کالج میں ہوا اس دن وہ بہت خوش تھی مجھ سے کہنے لگی کہ کیسا لگے گا آپ کو کہ دو دو ڈاکٹر بہنوں کے بھائی کہلاۓ جائیں گے ۔میں نے مسکرا کر کہا تھا کہ علاج مفت کروایا کروں گا ۔

وہ کہنے لگی کہ آپ کا مفت علاج نہیں کروں گی آپ تو فیس دے سکتے ہیں آپ سے پیسے لے کر اس پیسے سے غریبوں کا علاج مفت کروں گی ۔ کتنا شوق تھا اس کو سب کی مدد کا ،کسی کی بھی تکلیف پر تڑپ سی جاتی تھی ۔

ڈاکٹر بننے کے بیچ ہی رشتوں کا آنا جانا شروع ہو گیا ۔میری بہن کی منگنی تو بچپن ہی سے اس کے کزن سے ہو چکی تھی اس لۓ تعلیم ختم ہوتے ہی شادی ہو گئی مگر چوںکہ وہ اپنے خاندان کی پہلی ڈاکٹر تھی اس لۓ اس کے خاندان میں اس کے لۓ رشتہ موجود نہ تھا ۔

02

 

خاندان سے باہر کسی جاننے والی کے حوالے سے رشتہ آیا لڑکا امریکہ میں جاب کرتا تھا سب اس کے نصیبوں پر رشک کر رہے تھے اس نے بھی مشرقی لڑکیوں کی طرح ماں باپ کے فیصلے پر رضامندی ظاہر کی تھی ۔

اس کی رخصتی والے دن میں بھی موجود تھا لڑکے والوں کا خاندان بھی بہت پیسے والا تھا ۔ سب کچھ ٹھیک لگ رہا تھا مگر لڑکا کچھ چھینپا جھینپا سا نظر آیا جس کو دیکھنے والوں نے اس کی فطری شرم سے معمور کیا ۔

ولیمے والے دن جب میں نے اس کو دیکھا تو وہ مجھے بجھی بجھی سی لگی جب میں نے اپنی بہن سے استفسار کیا تو اس نے کہا کہ مجھے تو کچھ نہیں بتایا مگر مجھے بھی وہ سیٹ نہیں لگی ۔

شادی کے کچھ عرصے بعد ہی سنا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ چلی گئی ہے اور پھر جب وہ واپس آئی تو وہ اپنے حواسوں میں نہ تھی پتہ چلا کہ اس کا شوہر جنسی طور پر ایک ادھورا انسان تھا .

3

اس عیب کو اس نے اپنے امریکہ کے گرین کارڈ تلے چھپا رکھا تھا ۔شادی کی پہلی رات ہی سے اس نے اپنی اس کمزوری کا انتقام اس لڑکی کو جسمانی اذیت دے کر لیا ۔

مگر وہ مشرقی لڑکی اپنے فطری شرم و حیا کے سبب کسی کو بتا نہ سکی اور امریکا جا کر تو اس نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی جس کے نتیجے میں آج وہ لڑکی اپنے ماتھے پر طلاق کا جھومر اور نصیب پر پاگل پن کا داغ لگاۓ لوٹی ہے نصیبوں سے لڑا نہیں جا سکتا مگر پھر بھی امریکہ پلٹ رشتوں کو قبول کرنے سے پہلے والدین کو کم از کم لڑکے سے ایک دو ملاقاتیں تو ضرور کرنی چاہیں ۔

To Top