کسی اور کے نطفے کو اپنے رحم میں رکھنا زنا ہے فتوی جاری ہو گیا

کسی اور کے نطفے کو اپنے رحم میں رکھنا زنا ہے فتوی جاری ہو گیا

مشرقی معاشرے میں شادی زندگی کا ایک اہم موڑ ہوتا ہے شادی کا مطلب یہی تصور کیا جاتا ہے کہ شادی شدہ جوڑا اب اپنے خاندان کو بڑھاۓ گا اور اس طرح نئی نسل پروان چڑھے گی شادی کے ابتدائی دن اسی خواہش کے زیر اثر گزرتی ہے اور کچھ ہی دنوں کے بعد زیادہ تر کو یہ خوشخبری بھی مل جاتی ہے کہ ان کی نئی نسل کی پیدائش کی امید پیدا ہو چلی ہے ۔


مگر کچھ جوڑے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو یہ خوشخبری نہیں مل سکتی مگر اس سے ان کی امید کا خاتمہ نہیں ہوتا اور وہ اس سلسلے میں ڈاکٹروں کے چکر کاٹنے شروع کر دیتے ہیں بدقسمتی سے بعض صورتحال میں ان پر یہ روح فرسا انکشاف بھی ہوتا ہے کہ میڈیکل پیچیدگی کے سبب وہ اس خوشی کو حاصل نہیں کرسکتے ۔

مگر جیسا کہ میڈیکل سائنس اب بہت ترقی کر چکی ہے اسی وجہ سے اس حوالے سے کئی علاج منظر عام پر آچکے ہیں جن میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی یا پھر متبادل ماں کا حصول بھی ہے ۔متبادل ماں کا استعال اس صورت میں کیا جاتا ہے جب کہ کسی ماں کا رحم یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنے بچے کا بار اٹھا سکے اسی لیے اس بات کا بندوبست کیا جاتا کہ کہ کسی اور عورت کے رحم میں نطفے کو پروان چڑھایا جاۓ ۔

اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں پہلی صورت میں مرد کے اسپرم بغیر جنسی دخول کے سائنسی طور پر کسی اور عورت کے رحم میں داخل کیۓ جاتے ہیں ۔اس عورت کو اس عمل کا باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا ہے ۔دوران حمل اس کے اخراجات کی ذمہ داری لی جاتی ہے ۔اور بچے کی پیدائش کے بعد وہ عورت اس بچے کو اس کے باپ کے جوالے کر دیتی ہے ۔

جب کہ دوسری صورت میں مرد کے اسپرم اور عورت کے انڈوں کو جسم سے باہر ہی ملا کر نطفہ یا بیچ حاصل کر لیا جاتا ہے اور پھر یہ بیچ کسی اور عورت کے رحم میں رکھ دیا جاتا ہے جس کی ذمہ داری اس نطفے کو نو ماہ تک اپنی کوکھ میں رکھنا ہوتا ہے ۔

اگرچہ ان دونوں صورتوں میں عورت کا مرد سے براہ راست اختلاط نہیں ہوتا مگر اس کے باوجود علما کرام اس عمل کو غیر اسلامی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کو ولد الحرام قرار دیتی ہے ۔ اس حوالے سے علما کرام قرآنی حوالہ دیتے ہوۓ کہتے ہیں کہ قرآن کی سورت مجارلہ آیت 2 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ

ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے

اس حوالے سے اس طریقے سے پیدا ہونے والے بچوں کی ماں کے معاملے میں شکوک پیدا ہوتے ہیں جو اسلامی نقطہ نظر سے جائز نہیں ہے ۔

اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، بے شک وہ خبردار قدرت والا ہے

اسی سبب علما کرام کا کہنا ہے کہ جب اللہ ہی نہیں چاہتا تو پھر بندے کی اس قسم کی کوششیں اللہ تعالی کی مرضی کے خلاف تصور کی جائیں گی لہذا اس قسم کے افعال سے پرہیز کرنا ہی بہتر ہے

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اللہ کی رضا کو سب سے زیادہ فوقیت دینی چاہیۓ اور ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیۓ جو کہ ہماری آنے والی نسل کے لیۓ کسی قسم کے مسائل کا سبب بنے کیوںکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس سبب بچہ نفسیاتی طور پر اپنی پیدائش کے عمل کے بارے میں جاننے کے بعد مختلف قسم کے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے ۔

 

To Top