نو بیاہتا لڑکی سے مباشرت کرنے کے لیۓ شوہر کی جانب سے بدترین تشدد

نو بیاہتا لڑکی سے مباشرت کرنے کے لیۓ شوہر کی جانب سے بدترین تشدد

میں میڈیکل کے شعبے کی ایک طالبہ ہوں اور بطور ٹرینی عباسی شہید ہسپتال جاتی ہوں ۔یہ گزشتہ ہفتے کی بات ہے جب میں کسی کام سے ریڈیولوجی ڈپارٹمنٹ گئی تو وہاں میں نے ایک نو بیاہتا  لڑکی کو دیکھا ۔اس لڑکی کے ہاتھوں پر نئي نئی مہندی لگی ہوئی تھی ۔چہرے پر میک اپ اور بالوں کی سجاوٹ کو دیکھ کر اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بیوٹی پارلر سے تیار ہوئی تھی ۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے ،بازؤں پر تازہ زخموں کے نشانات تھے ۔جس کے سبب اس لڑکی کے چہرے پر جگہ جگہ نیل پڑے ہوۓ تھے وہ بہت اذیت میں بھی تھی ۔اس کے ساتھ ایک جوان آدمی بھی کھڑا ہوا تھا جب میں نے اس آدمی سے اس لڑکی کی اس حالت کے بارے میں استفار کیا تو اس نے جواب دیا کہ اس لڑکی کا اپنے شوہر سے گھریلو معاملات پر گھریلو چھگڑا ہواہے ۔

اس آدمی نے مزید بتایا کہ وہ اس لڑکی کا بھائی ہے ۔اس لڑکی کے بھائی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کر رہا کہ میں اس بارے میں کچھ بھی پوچھوں ۔جب اس لڑکی کی ٹریٹمنٹ کرتے ہوۓ باتوں باتوں میں میں نے اس سے اس واقعے کے بارے دریافت کیا تو اس نے جو مجھے بتایا وہ مجھے گنگ کرنے کے لیے کافی تھا ۔

اس لڑکی نے روتے ہوۓ بتایا کہ اس کے شوہر نے اس کا ریپ کیا ہے ۔اس کی یہ بات مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ایک شوہر اپنی بیوی کا ریپ کیسے کر سکتا ہے ۔اس کے بعد اس نے تفصیلات بتاتے ہوۓ کہا کہ اس کی شادی کل رات ہی ہوئی تھی ۔شادی کی پہلی رات جب اس کے شوہر نے اس سے مباشرت کا مطالبہ کیا تو اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔اور اس کی ایام حیض ہیں جس کے سبب اسلام کے مطابق ان ایام میں مباشرت ممنوع ہے ۔

اس لڑکی کا کہنا تھا کہ اس کی یہ توجیح سن کر اس کا شوہر غضب ناک ہو گیا اور اس نے کہا کہ ایسی کوئی پابندی اسلام میں نہیں ہے اس کے بعد اس نے نہ صرف اس لڑکی کو مارا پیٹا بلکہ اس لڑکی کے ساتھ بزور طاقت جنسی زیادتی بھی کی ۔اس دوران وہ نہ صرف اس لڑکی کو ہاتھوں لاتوں اور بیلٹ سے مارتا رہا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس لڑکی کو اتنی زور کا دھکا دیا کہ اس کی گردن کسی چیز سے ٹکرائي جس سے اس کی گردن کی ہڈی میں فریکچر بھی ہو گیا ۔

تکلیف کی شدت سے اس لڑکی نے روتے ہوۓ اپنے بھائی کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ تم لوگوں نے میری شادی ایسے آدمی سے کیوں کروائی ؟مگر اس سوال پر اس لڑکی کے بھائی کا ردعمل میرے لیۓ بہت حیران کن تھا اس کا کہنا تھا کہ تمھیں کس نے کہا تھا کہ اپنے شوہر کی بات نہ مانو اگر تم اپنے شوہر کی بات مان لیتی تو تمھارے ساتھ کبھی ایسا نہ ہوتا ۔

اسلام میں کہیں بھی اپنی بیوی کے ساتھ زبردستی جنسی افعال انجام دینے کی اجازت نہیں ہے اس کے علاوہ قرآن میں سورہ بقرہ میں واضح طور پر ایام حیض میں اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلق نہ قائم کرنے  کا حکم موجود ہے ۔جب میں نے اس کے بھائی کو یہ سب بتانے کی کوشش کی تو اس کا جواب یہ تھا کہ کون سا کسی غیر عورت کے ساتھ ایسا کیا ہے اپنی بیوی کے ساتھ ہی تو کیا ہے اور اپنی بیوی کے ساتھ ایسا کرنا کوئی ریپ نہیں ہوتا ۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر اس سے جنسی تعلقات استوار کرنا ایک جرم ہے مگر پاکستانی معاشرے کے اندر خواتین کو اس بارے میں آگاہی حاصل نہیں ہے ۔مذہبی مثالوں کے ذریعے عورتوں کو اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ ہر صورت میں شوہر کے مطالبات کی تکمیل کریں گی ۔

اس بارے میں کسی قسم کی بات کرنے کی اجازت معاشرہ عورتوں کو نہیں دیتا اسی سبب عورتوں کی بڑی تعداد اپنی زندگی میں اس ظلم کا نہ صرف نشانہ بنتی ہیں بلکہ اپنے میکے والوں کے دباؤ کے سبب اس ظلم کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا سکتی ہیں ۔ اس حوالے سے ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو ان کے حقوق کے حوالے سے تعلیم دی جاۓ اور ان کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جاۓ ۔

To Top