نیلم منیر کی سوتی جاگتی ایسی حالت میں تصاویر سامنے آگئیں کہ لوگ ان کو نماز پڑھنے کی تلقین کرن

نیلم منیر کی سوتی جاگتی ایسی حالت میں تصاویر سامنے آگئیں کہ لوگ ان کو نماز پڑھنے کی تلقین کرنے لگے

نیلم منیر کا شمار پاکستان شو بز کی ان اداکارازں میں ہوتا ہے جو کہ اداکاری کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی بہت ایکٹو ہیں اور ان کے سوشل میڈیا پر فالورز کی تعداد نہ صرف لاکھوں میں ہے بلکہ وہ اپنی پسندیدہ اداکارہ کی ہر پوسٹ پر دل کھول کر نہ صرف لائک کرتے ہیں بلکہ اس پر تبصرے بھی کرتے ہیں

یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ عام طور پر یہ تبصرے تعریف سے زیادہ تنقیدی نوعیت کے ہوتے ہیں اس میں کچھ قصور خود نیلم منیر کا بھی ہے حو کہ عام طور پر اپنے اکاونٹ سے ایسی تصاویر شئر کرتی ہیں کہ جن کو دیکھ کر لوگوں کے جزبات جاگ اٹھتے ہیں اور لوگ ان کے بے طرح تنقید کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں

 

Never stop Dreaming ?#goodnigth?

A post shared by Neelam Muneer Khan (@neelammuneerkhan) on

حال ہی میں نیلم منیر نے اپنے اکاونٹ سےکچھ ایسی ہی تصاویر شئر کیں جس کو دیکھ کر لوگ دیوانے ہو گۓ اور انہوں نے نیلم منیر کو ایسے ایسے مشورے دے ڈالے کہ عقل حیران رہ گئی

نیلم منیر نے اپنے سونے کی تصویر اس کیپشن کے ساتھ شئر کی کہ کبھی خواب دیکھنے نہ چھوڑو

اس کے جواب مین ان کے چاہنے والوں کا کہنا تھا کہ ساری رات جاگتی رہی ہو اور جیسے ہی نماز کا ٹائم ہوا تو نماز پڑھنے کے بجاۓ سب کو شب بخیر کہہ ڈالا

کچھ لوگوں نے نیلم منیر کا موازنہ قندیل بلوچ سے کرتے ہوۓ اس کو مشورہ دے ڈالا کہ وہ قندیل بلوچ جیسی حرکات کرنے سے پرہیز کرے

 

#night ?

A post shared by Neelam Muneer Khan (@neelammuneerkhan) on

اس کے بعد اگلی تصویر نیلم منیر نے جو شئر کی اس کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ جاگنے کے فورا بعد کی ہے مگر اس کا کیپشن بھی رات کے عنوان ہی سے تھا

اس تصویر کو دیکھ کر لوگوں کا کہنا تھا کہ سو کر اٹھی ہو تبھی تو بال اس طرح بکھرے ہوۓ ہیں

نیلم منیر کے حسن سے متاثر ہو کر کچھ لوگوں نے تو قسم کھا لی کہ نیلم کے حسن کے پیچھے ایک دن لاشیں گر جانی ہیں

اس کے علاوہ بھی لوگوں نے بے تحاشا تبصرے کیۓ مگر وہ تبصرے اخلاق سے اس حد تک گرے ہوۓ تھے کہ ان کو شئر کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا

اداکاراوں کی ایسی تصاویر پر اخلاق سوز تبصروں کے باعث ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج بھی کچھ لوگ شو بز سے جڑی عورتوں کو کسی قسم کی عزت کا حقدار نہیں سمجھتا حالانکہ اب شو بز میں کافی پڑھے لکھے گھرانوں کی لڑکیاں موجود ہیں

To Top