نظم : ماں

نظم : ماں

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

جب اس دنیا نامی اُجڑی بستی مِیں مَیں آیا تھا

وہ ایک ہی ہستی تھی جسکا مجھ پر سایا تھا۰۰

میرے بھوکے پیٹ کو بھرنے  کی  خاطر ۰۰

اُس نے اپنے نصیب سے چھین کر مجھے کھلایا تھا

 

مجھے بیمار جو دیکھا تو سجدے سے اُٹھی نہیں وہ رات بھر

اپنے آنسووں کا واسطہ دے کر اُس نے خدا کو منایا تھا

 

اس کے ہاتھ جو لگے تو درد کو کیسے نہ آتا  آرام۰۰۰

زخم بھی ہوا خوش نصیب جو مرہم اُس نے لگایا تھا

 

ہنسنا جانتی نہ تھی یا میری فکر میں رہتی وہ ملوث ہر وقت

َلب اُس کے بھی کِھلے اک دن جب میں مسُکرایا تھا۰۰۰۰۰

 

 

اُس کے پیروں کی مٹی سے سرشار جو ہوں تو بن جاوں میں قابل

کیونکہ جنت کو خدا نے اُس کے قدموں تلے سجایا تھا۰۰……..

 

بہت دعوے کیے اس دنیا کے مسافروں نے محبت کے مگر

وہ ماں ہی  تھی جسکا  پیار نُو  مہینے ذیادہ  پایا تھا

To Top