پاکستان میں جائز مائیں ناجائز بچے پیدا کر کے ان کے ساتھ کیا کرتی ہیں ہولناک انکشافات

پاکستان میں جائز مائیں ناجائز بچے پیدا کر کے ان کے ساتھ کیا کرتی ہیں ہولناک انکشافات

پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور اس میں اسلامی قونین کے مطابق باقاعدہ شادی کا ایک قانون نافذ ہے ۔نکاح کے شرعی عمل کے بعد میاں بیوی کو اس بات کی اجازت حاصل ہے کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کا باقاعدہ آغاز شرعی طور پر کر سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد کواسلامی نقطہ نگاہ سے  جائز تصور کیا جاتا ہے

البتہ وہ اولاد جو بغیر نکاح کے پیدا ہو یا اس کی پیدائش کے آثار پیدا ہوں تو اس اولاد کو ناجائز قرار دیا جاتا ہے ۔ اور اس کی ہمارے معاشرے میں قطعی گنجائش موجود نہیں ہے ۔اس کا سبب یہ ہے کہ یہ اولاد ناجائز جنسی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اور اسلام کے مطابق یہ ناجائز جنسی عمل زنا ہے اور کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہے ۔اسلامی قوانین کے تحت اس کی سزا سنگسار کرنا ہے اور پاکستانی قانون کے تحت بھی یہ ایک جرم ہے ۔

بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے بچوں کی شرح اموات بہت بلند ہے جن بچوں کو صرف اس لیۓ ماں کی کوکھ ہی میں مار دیا جاتا ہے کہ وہ ناجائز تعلق کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں حالانکہ اسقاط حمل کروانا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی قانونا منع ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں ایسے ہزاروں میٹرنٹی ادارے موجود ہیں جو کہ اس غیر قانونی دھندے میں ملوث ہیں ۔

سال 2012 میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ پاکستان میں سالانہ اسقاط حمل کی تعداد قریبا 25 لاکھ تھی اور ان میں سے 99 فی صد مشکوک حالات میں کیے گئے۔ یعنی صرف ایک سال میں 25 لاکھ جانیں مخصوص وجوہات کی بنا پر پہلا سانس لینے سے پہلے ہی ختم کر دی گئیں۔ 15 سال سے زیادہ عمر کی ہر ہزار عورتوں یا لڑکیوں میں یہ شرح 50 تھی۔ جبکہ یہی شرح 2002 میں 27 فی ہزار تھی۔

اسی سبب عبدالستار ایدھی نے ایسے بچوں کی زندگی بچانے کے لیۓ اپنے تمام سینٹرز پر ایسے جھولے نصب کیۓ جہاں پر ایسے بچوں کو نہ صرف وصول کیا جاتا ہے بلکہ ان کی پرورش کا بھی انتظام کیا جاتا ہے ۔ان کے اس عمل کو اسلامی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔مگر اس کے باوجود ایدھی سنٹر کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بائیس ہزار بچے ایدھی سینٹر میں ایسے موجود ہیں جن کی ولدیت کے خانے میں عبد الستار ایدھی کا نام درج ہے ۔

یہ تو صرف زندہ بچ جانے والے بچوں کا احوال ہے ۔ مار دیۓ جانے والے بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن کو ایدھی سنٹر کے کارکن کچرہ کنڈیوں سے یا پھر کوڑے کے ڈھیر سے اٹھاتے ہیں ان نوزائيدہ بچوں کی بڑی تعداد کو آوارہ کتوں نے بھنبھوڑ رکھا ہوتا ہے اور ان کی لاشیں بری طرح نوچی ہوئی ہوتی ہیں ۔

کچھ ناجائز بچے تو ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو پیدا ہوتے ہی گلا گھونٹ کر مار دیا جاتا ہے اور پھر ان کی لاشوں کو جانوروں کے لیۓ پھینک دیا جاتا ہے ۔ ایدھی سنٹر کے کارکنوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان معصوم بچوں میں سے بعض کی لاشیں تو جلائی بھی گئی تھیں تاکہ ان کی شناخت سامنے نہ آسکے ۔

نام نہاد محبت کے نشے میں چور یہ لوگ اپنی محبت کے اس ثمر کو جس طرح بے نام و نشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ پورے معاشرے کا سر شرم سے جھکانے کے لیۓ کافی ہے ۔ جس معاشرے میں نکاح دشوار ہو جاتا ہے اس معاشرے میں زنا عام ہو جاتا ہے اور زنا کو حرام قرار دیۓ جانے کا سبب بھی یہی ہے کہ زنا ایک ایسا گناہ ہے جس کا اثر صرف ایک یا دو افراد پر نہیں پڑتا بلکہ اس کی سزا اگلی پوری نسل کو بھگتنی پڑتی ہے ۔

To Top