شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا آفس آئی خاتون کے ساتھ ایسا کیا ہو گیا کہ ان کا آدھا کان کٹ کے ہاتھ میں آگیا

شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا آفس آئی خاتون کے ساتھ ایسا کیا ہو گیا کہ ان کا آدھا کان کٹ کے ہاتھ میں آگیا

پاکستانیوں کی شناخت کے لیۓ یہ لازم ہے کہ ان کے پاس شناختی کارڈ ہونا چاہیے اور اس کے لیے حکومت نے باقاعدہ طور پر نادرا کے نام سے ایک ادارہ بنایا ہے جو کہ پاکستانیوں کے نہ صرف شناختی کارڈ بناتا ہے بلکہ نۓ پیدا ہونے والے بچوں کے پیدائش کے سرٹیفیکیٹ اور ان کے ب فارم وغیرہ کا اندارج بھی کرتا ہے

پورے پاکستان میں نادرا کے دفاتر جہاں جہاں بھی موجود ہیں وہاں آفس اوقات میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو یا تو شناختی کارڈ بنوا رہے ہوتے ہیں یا پھر ان کی تجدید کروا رہے ہوتے ہیں صارفین کی بڑی تعداد کے سبب اکثر اوقات لوگوں کو بڑے صبر آزما انتظار سے گزرنا پڑتا ہے جس کے لیۓ نادرا کے دفاتر کے ساتھ انتظار کاہ موجود ہوتی ہے

اس انتظار گاہ کا سایہ دار ہونا اور وہاں پانی کا ہونا لازمی ہوتا ہے جہاں پنکھے کا لگا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ انتظار کرنے والوں کو پریشانی نہ ہو مگر اس کے باوجود اکثر اوقات میں اس حوالے سے شکایات سامنے آتی رہتی ہیں جس کے حوالے سے ارباب اقتدار کی جانب سے سنگین خاموشی کامظاہرہ کیا جاتا ہے

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ثنا علی نامی ایک خاتون نے سوشل میڈیا پر ایک انتہائی افسوسناک پوسٹ شئیر کی ہے ان خاتون کا کہنا تھا کہ

میں نادرا کے گلستان جوہر والے دفتر گئي جو کانٹی نینٹل بیکری کے قریب واقع ہے اپنی بیٹی کے لیۓ ب فارم بنوانے گئی جہاں پونے بارہ بجے اچانک انتظار گاہ میں تیزی سے چلتا ہوا پنکھا وہاں موجود افراد پر گر گیا جس کے نتیجے میں ان کا کان آدھا کٹ گیا اور تیزی سے خون جاری ہو گیا وہاں انتظار گاہ میں بیٹھے لوگوں نے مجھے سنبھالا میں ان تمام حالات میں بری طرح شاک ہو گئي اور قریبا بے ہوشی کے عالم میں تھی

اسی اثنا میں نادرا کے دفتر سے ان کا ایک ذمہ دار نکلا اور اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوۓ کوئی ایکشن لینے کے بجاۓ مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ جب آپ آئندہ کبھی آئیں گی تو آپ کو انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور آپ کی باری جلد ہی آجاۓ گی

ثنا علی کے مطابق ہونا تو یہ چاہیۓ تھا کہ نادرا کے ذمہ داران فوری طور پر ایمبولنس منگاتے اور ان کو طبی امداد مہیا کی جاتی مگر اس کے بر خلاف انہوں نے بس پر جانے کا نادر مشورہ بھی دے ڈالا ثنا علی کا یہ بھی کہنا تھا اس حادثے سے کچھ دیر قبل تک ان کے ساتھ ایک معصوم بچہ بھی بیٹھا ہوا تھا یہ پنکھا اگر اس پر گرتا تو اس کی تو جان ہی چلی جاتی

اس افسوسناک صورتحال کو دیکھتے ہوۓ نادرا کے ذمہ داران کی بے حسی نے عام عوام کے لیۓ بہت سارے سوال اٹھا دیۓ ہیں سرکاری اداروں میں رشوت ستانی کے سبب ٹھیکیدار ناقص چیزوں کا استعمال کر کے نہ صرف حکومت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ انسانی جانوں سے بھی کھیلتے ہیں لہذا اس حوالے سے ارباب اقتدار کو اس حادثے کا باقاعدہ نوٹس لیتے ہوۓ باقاعدہ تحقیقات کا حکم جاری کرنا چاہیۓ

To Top