اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آج کل کے حالات سے کیا تقاضا کرتی ہے ؟

اسوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آج کل کے حالات سے کیا تقاضا کرتی ہے ؟

پچھلے کچھ دنوں سے ہماری قوم ایک عجیب سی شرمندگی سے دوچار ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر جان قربان کر دینے کا دعوی کرنے والی اس قوم کو خود سمجھ نہیں آرہا کہ ہم کس طرف جائیں۔ اللہ اور اس کے رسول سے اپنی محبت کا اظہار کس طرح کریں ؟ اگرمروجہ طریقے سے اظہار نہ کریں سڑکوں کو بلاک نہ کریں ۔مار دھاڑ نہ کریں توڑ پھوڑ نہ کریں تو کیا ہم عاشق رسول نہیں ؟؟؟

اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لۓ ہمیں کیا کرنا چاہۓ ؟ ان سوالوں نے جب بہت پریشان کر دیا تو سوچا کہ تاریخ کی کتب اٹھا کر دیکھتے ہیں کہ ہمارے نبی نے اس کے لۓ کیا حکم دیا تھا ۔ جب ہمارے پیارے نبی نے اعلانیہ تبلیغ کا آغاذ کیا تو ابولہب ہمارے پیارے نبی کی تکذیب کے لۓ بازاروں اور اجتماعات میں آپ کے پیچھے لگا رہتا اور آپ پر اتنے پتھر برساتا کہ آپ کی ایڑیاں خون آلود ہو جاتی تھیں ۔ابو لہب کی بیوی ام جمیل پیارے نبی کی راہ میں کانٹے بچھا دیتی تھی اسی سبب اس عورت کے لۓ سورۃ الھب میں “لکڑی ڈھونے والی” کے نام سے پکارا گیا۔

مگر ہمارے پیارے نبی نے کبھی ان میاں بیوی کو ان کے اس ظلم کے بدلے میں کوئی جواب نہ فرمایا۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان دونوں کی مزمت میں سورۃ الھب نازل فرما کر تاقیامت ان میاں بیوی کی مذمت فرما دی ۔ ایک اور دشمن عقبہ بن ابی معیط نے بیت اللہ میں ان اوقات میں جب نبی اکرم نماز پڑھ رہے تھے اونٹ کی اوجھڑی آپ کی کمر پر رکھ دی ۔جس کو اٹھانے کی طاقت ہمارے پیارے نبی میں سجدے کے دوران نہ تھی ۔ اس حالت میں اپنے پیارے والد کو دیکھ کر بی بی فاطمہ آگے بڑھیں اور وہ اوجڑی ہٹا کر تین بار فرمایا “اے اللہ تو قریش کو پکڑ لے “اس واقعے میں جو سات افراد شریک تھے ان ساتوں کی بربادی بدر کے مقام پر ہوئی۔یعنی اللہ نے ان کو بھی نیست و نابود کر دیا ۔

ان واقعات کے بعد ایک دور ایسا بھی آیا جب کہ یہی قریش والے نبی کے رحم و کرم پر تھے ۔ فتح مکہ کے موقعے پر وہ چاہتے تو ہر زيادتی کا بدلہ اور حساب اہل مکہ سے لے سکتے تھے مگر انہوں نے ان سب کو معاف کر دیا ۔ آج اسی نبی کی امت ہونے کا دعوی لے کر ،اسی نبی کی ناموس کا مطالبہ لے کر جب ہم گھروں سے نکلتے ہیں تو سامنے آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرتے جاتے ہیں ۔

ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک موٹر سائیکل کو ایک ہجوم پل سے اٹھا کر نیچے پھینک رہا تھا ۔اس موٹر سائکل والے نے یہ موٹر سائکل یا تو قسطوں پر لی ہوگی یا پھر مہینوں بچت کر کے لی ہو گی اس بے چارے نے ناموس رسالت کے خلاف کیا کیا ہو گا۔اس کا قصور یہی ہو گا کہ اس نے اس دن گھر سے باہر قدم نکالا تاکہ اپنی نوکری پر جا سکے ۔کیا یہ ہمارے پیارے نبی کی تعلیمات تھیں ۔

انہوں نے تو طائف کے ان لوگوں کو بھی بددعا نہیں دی جنہوں نے ان پر پتھر برسا کر خون و خون کر دیا تھا ۔ ہم عشق نبی کا دعوی تو کرتے ہیں مگر عشق کے تقاضوں سے یکسر عاری نظر آتے ہیں ۔ عشق کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو نبی پاک کی زندگی جیسا بنا لیں ۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ان کی ناموس کے تقاضے ہم سب پر واجب ہیں لیکن اس ناموس کی حفاظت کرنے کے بھی کچھ اصول و ضوابط لازم ہونے چاہیے ہیں ۔ اس کے سبب کسی کمزور کو تکلیف پہنچا کر ہم کون سے تقاضے نبھانے کے دعوۓ کر رہے ہیں ۔ یہ وقت آگہی دینے کا وقت ہے ۔اس خاتم الانبیا کے بتاۓ ہوۓ راستے پر چلنے کا ہے جس نے اپنے اخلاق اور صبر کے ذریعے اسلام کا پرچم بغیر خون بہاۓ بلند کیا۔

تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ بے شک اللہ کی ذات نبی کے دشمنوں کو کبھی معاف نہیں کرتی اور ان کی مذمت فرماتی ہے۔

To Top