اس نے تمھاری بہن کے ساتھ زیادتی کی، تم بھی اسکی بہن کی عزت خراب کر دو! مظفر گڑھ کی پنچایت کا بیہمانہ فیصلہ

اس نے تمھاری بہن کے ساتھ زیادتی کی، تم بھی اسکی بہن کی عزت خراب کر دو! مظفر گڑھ کی پنچایت کا بیہمانہ فیصلہ

آج سے پندرہ سال پہلے مختاراں مائی کے ساتھ جب جرگہ کے فیصلے کے نتیجے میں  اجتماعی زیادتی کا واقعہ ہوا تھا تو طاقت کے نشے میں غرق لوگ اس حقیقت سے قطعی ناواقف تھے کہ قدرت کا کوئی ہاتھ ان کی ان زیادتیوں کو روکنے کے لۓ اٹھ پاۓ گا ۔

جس وقت مختاراں مائی کو مظفر گڑھ کی گلیوں میں برہنہ حالت میں پھرایا جا رہا تھا اس وقت زمین اور آسمان اس کی بے چارگی پر گریہ کناں تھے مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے آنکھوں پر بے حسی کے پردے گراۓ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے ۔

میڈیا پر اس اجتماعی ذیادتی کی خبر نے آگ لگا دی اور اس کے بعد ہونے والے اقدامات سے یہ امید پیدا ہو گئی کہ اب وقت کے فرعونوں کو نکیل ڈال دی گئی۔ اب حوا کی کوئی بیٹی اس طرح بے حرمت نہ ہو پاۓ گی ۔

مگر ایسا ہو نہ سکا ظلم کی یہ داستان دوبارہ سے دہرائی گئی ۔مظفر گڑھ کی پنچایت کے سامنے ایک بار پھر دو خاندانوں کا جھگڑا لایا گیا جس میں سے ایک خاندان کا دعوی تھا کہ ان کے خاندان کی بارہ سالہ لڑکی کو ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ذیادتی کرنے والے لڑکے کو سزا دی جاتی ،اس کو عبرت کا نشان بنایا جاتا ۔مگر ایک بار پھر نشانہ بنی تو حوا کی بیٹی جس کو ایک اور حوا کی بیٹی کی عزت لٹنے کی سزا کے طور پر اپنی عزت گنوانا پڑی ۔

پنچایت نے فیصلہ دیا کہ متاثرہ لڑکی کا بھائی ،عزت لوٹنے والے کی بہن کی بھی عزت لوٹ لے تاکہ حساب برابر ہو سکے ۔اور پھر وہ ہوا جس کی نہ تو قانون میں کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی تہذیب میں ۔اس لڑکے نے پنچایت کے سامنے اس لڑکے کی سترہ سالہ بہن کو نہ صرف ذیادتی کا نشانہ بنایا بلکہ اس لڑکی کو اس جرم کی سزا دی جو اس نے کیا ہی نہ تھا ۔

چناب کے کنارے شہر ملتان، ولیوں اور بزرگوں کا شہر ملتان ،پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ملتان اور اس کے مضافات میں ہونے والا پنچایت کا یہ فیصلہ ہمارے لۓ ایک سوالیہ نشان ہے ۔اب اس واقعے پر جتنے سو موٹو ایکشن لۓ جائیں ،جتنی بھی گرفتاریاں کی جائیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ۔

یہ سب اقدامات اس سترہ سالہ لڑکی کی اس لوٹی ہوئی عزت کو نہیں لوٹا سکتے ۔آخر کب تک بہنیں بیٹیاں اپنے باپ اور بھائیوں کے گناہوں کے بدلے ونی ، اور کاری ہوتی رہیں گی ۔ آخر کب ہم ان فرسودہ روایات کے پنجے سے آزاد ہو پائیں گے ۔

مختاراں مائی کے زخم ہی ابھی نہیں بھرے تھے کہ ہم نے اس کے ساتھ ایک اور مختاراں مائی کھڑی کر دی ۔پنچایت کا یہ فیصلہ ہمارے عدالتی نظام کے لۓ ایک سوالیہ نشان ہے ۔جہاں پر انصاف کا حصول اتنا دشوار بنا دیا گیا ہے کہ مظلوم اس در پر دستک دینے سے قبل زہر کھا کر مر جانے پر راضی ہو جاتا ہے ۔

To Top