اگر تم عورتوں کو ۔۔۔۔ نہیں کر سکتے تو چوڑیاں پہن لو اور ان کے مرنے کے بعد عدت پر بھی بیٹھ جاؤ ۔مفتی طارق مسعود نے تمام مردوں کے لیۓ یہ فتوی کیوں جاری کر دیا

اگر تم عورتوں کو ۔۔۔۔ نہیں کر سکتے تو چوڑیاں پہن لو اور ان کے مرنے کے بعد عدت پر بھی بیٹھ جاؤ ۔مفتی طارق مسعود نے تمام مردوں کے لیۓ یہ فتوی کیوں جاری کر دیا

مفتی طارق مسعود کا تعلق کراچی سے ہے ۔ معروف اسلامی تعلیمی ادارے جامعتہ الرشید میں استاد کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ اپنے عام فہم انداز بیان کے سبب سوشل میڈیا پر ان کے بیانات انتہائی دلچسپی اور توجہ سے سنے جاتے ہیں ۔ اسلامی حوالوں سے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو بیان کرنے کا ان کا انداز اور ان کی تبلیغ کا انداز انتہائی منفرد ہے

رمضان المبارک میں ان کا عورتوں کے پردے کےحوالے سےبیان سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ کا باعث بنا رہا اپنے بیان میں انہوں نے عورتوں کے پردے کے حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری گھر کے مرد پر عائد کی ان کے مطابق چونکہ مرد کے ذمے گھر کی کفالت کی اہم ترین ذمہ داری ہوتی ہے اس حوالے سے اس کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو اس بات کا پابند بناۓ کہ وہ ایسے لباس پہننے سے پرہیز کریں جو ان کے جسم کو چھپا نہ سکیں

https://www.youtube.com/watch?v=5_1Z8-aMZnk&feature=youtu.be

سوشل میڈیا کے مطابق مفتی صاحب کے اس بیان میں جو چند نکات لوگوں ے درمیان زیر بحث رہے اس میں سبت سے پہلے مفتی صاحب کا سعودی عرب کی پیروی سے منع کرنا تھا مفتی صاحب کے مطابق سعودی عرب والے خود بھی مفربی معاشرت کی تقلید کر رہے ہیں لہذا ہمیں عورتوں کے پردے کے حوالے سے ان کی تقلید سے اجتناب برتنا چاہیۓ

اس کے بعد جو دوسرا نقطہ انہوں نےے بیان کیا وہ یہ تھا کہ اللہ نے عورت کو حیا سے اور مردوں کو غیرت سے نوازا ہے اس لیۓ اگر عورت غیر مناسب لباس پہنتی ہے تو اس سے مرد کی غیرت اثر انداز ہونی جاہیۓ ۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا کہ مفتی صاحب کی اس طرح کی تعلیمات کے نتیجے میں معاشرے میں شدت پسندی پیدا ہو رہی ہے اور غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل میں اضافے کا بھی سبب بن سکتاہے

سب سے آخر میں مفتی صاجب نے یہ کہہ کر سب کو حیران ہی کر دیا کہ جو مرد اپنے گھروں میں عورتوں کو پردہ نہیں  کروا سکتے ان کو جاہیۓ کہ وہ شناختی کارڈ میں اپنا نام تبدیل کر لیں خود بیوی بن جائیں اور اپنی بیوی کا نام شوہر کے خانے میں لکھوالیں اس کے بعد اگر بیوی مر جاۓ تو بیوہ کی طرح چار مہینے دس دن کی عدت گزاریں

اگرچہ اس بات سے انکار نہیں ہے کہ مفتی طارق مسعود نے اسلامی معاشرے کے انتہائی اہم پہلو یعنی پردے کے بارےمیں بیان دیا تھا مگر کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر مفتی طارق مسعود  صاحب پردےکی ذمہ داری مردوں پر ڈالنے کے بجاۓ عورتوں کو اپنے مخصوص عام فہم انداز میں پردے کی اہمیت کے بارے بتاتے تو اس کا زیادہ بہتر اثر ہوتا ۔

 

To Top