بیوی کی کمائی کھانا شوہر پر حرام ہے، مفتی نعیم کا وینا ملک اور اسد خٹک سے ملاقات کے بعد نیا فتوی جاری

بیوی کی کمائی کھانا شوہر پر حرام ہے، مفتی نعیم کا وینا ملک اور اسد خٹک سے ملاقات کے بعد نیا فتوی جاری

وینا ملک اور اسد خٹک کے درمیان مولانا طارق جمیل کے ضامن بننے کے باوجود بھی لگ رہا ہے کہ حالات کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہے ہیں ۔ اسی سبب کل نماز ظہر کے بعد وینا ملک اور اسد خٹک دونوں مفتی نعیم کے پاس جامع بنوریہ پیش ہوۓ اور ان سے مدد کی درخواست کی ۔

تمام معاملات سننے کے بعد مفتی نعیم کے ہمراہ دونوں نے ایک پریس کانفرنس میں بھی شرکت کی جس میں مختلف نکات پر بات ہوئی، مگر سب سے اہم نکتہ یہ تھا کہ اسلام میں بیوی کی کمائی کھانا حرام ہے۔

مفتی نعیم کے مطابق وینا ملک نے شادی کے تین سال بعد تک اپنا مال اسد خٹک پر خرچ کیا جب کہ اسلام میں بیوی کی کمائی کھانا حرام ہے ۔مفتی صاحب کے اس قول کے سبب مردوں کی مشکلات میں انتہائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور وہ سب مرد حضرات جن کی بیویاں کسی نہ کسی حد تک کما کر گھر کے اخراجات میں اپنا حصہ شامل کر رہی ہیں اس پریشانی میں مبتلا ہو گئی ہیں کہ کیا اس طرح وہ اپنے گھر والوں کو حرام کھلانے کا موجب بن رہی ہیں؟ کیا بیوی کی کمائی مرد استعمال کرے تو وہ حرام ہوتی ہے؟

اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد انتہائی مشکل حالات میں ان کی زوجہ حضرت خدیجہ رضي اللہ تعالی عنہ نے ہر ہر لحاظ سے چاہے وہ اخلاقی حوالے سے ہو یا مالی حوالے سے اپنے شوہر کی مدد کی تھی ۔

اور اس کو ہمارے پیارے نبی نے خود خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ کہا تھا کہ بخاری نے نقل کیا ہے : حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت خدیجہ سے زیادہ کسی عورت سے رشک نہیں کیا کیونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ان کو بہت زیادہ یاد کرتے تھے اور ان پر درود بھیجتے تھے ۔

میں نے آنحضرت (ص) سے عرض کیا : قریش کی بوڑھی عورتوں میں سے ایک بوڑھی عورت کو اس قدر کیوں یاد کرتے ہو ، جبکہ وہ مر گئی ہیں اور ان کی کوئی نشانی باقی نہیں ہے اور خداوندعالم نے آپ کو ان سے بہتر زوجہ نصیب کی ہے۔

میں نے جب یہ بات کہی تو رسول خدا کا چہرہ اس طرح متغیر ہوگیا جس طرح نزول وحی کے وقت متغیر ہوتاتھا ، آخر فرمایا:

نہیں ! ہرگز ! خداوند عالم نے مجھے ان سے بہتر زوجہ نہیں دی ہے ۔ جس وقت لوگ میرا انکار کررہے تھے وہ ایمان لائیں ، جس وقت لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے ، اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی ، جس وقت لوگ مجھے اپنے پاس سے ہٹا رہے تھے اس وقت انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی

اس حوالے سے اگر دیکھا جاۓ تو سوال اٹھتا ہے کہ مفتی صاحب نے یہ قول کس بنیاد پر دیا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس کی وضاحت فرما کر بہت سارے مسلماں گھرانوں کی مدد فرمائیں گے ۔اور اس بات سے آگاہ فرمائیں گے کہ اسلام میں بیوی کی کمائی کے حوالے سے کیا حکم موجود ہے ۔

To Top