مارںںگ شوز میں یوگا کے نام پر فحش حرکات ۔ عوام کی سخت ترین الفاظ میں مزمت

مارںںگ شوز میں یوگا کے نام پر فحش حرکات ۔ عوام کی سخت ترین الفاظ میں مزمت

ٹیلی وژن پر مارننگ شوز کی تاریخ بہت پرانی ہے اس کا آغاز مستنصر حسین تارڑ صاحب نے کیا تھا پاکستان ٹیلی وژن پر صبح کے اوقات میں اللہ رسول کا نام لینے کے بعد تارڑ صاحب آتے تھے ۔ وہ اپنے ہلکے پھلکے انداز میں لوگوں کو سیاست ، حالات حاضرہ اور اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں مختلف ٹوٹکوں سے بھی آگاہ کرتے تھے ۔

بچے بڑے سب ان کو چاچا جی کے نام سے یاد کرتے تھے ۔ اس وقت لوگوں کے پاس بھی چاچا جی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوتا تھا  اسی سبب مرد حضرات بالعموم اور خواتین خصوصا ان کے اس شو کو بہت شوق سے دیکھتی تھیں ۔مگر جیسے جیسے چینلز بڑھتے گۓ مقابلے کی فضا میں اضافہ ہوتا گیا ۔

ہر چینل مالکان کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنا پروگرام دیکھنے پر راغب کریں ۔مارننگ شوز اب میڈیا چینلز کے لیۓ ایک بڑے بجٹ اور زيادہ منافع کمانے کا ذریعہ بنتے جارہے ہیں اسی سبب تمام میزبان اس بات کے لیۓ سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں کہ وہ اپنے پروگرام کی زیادہ سے زیادہ ریٹنگ حاصل کر کے دکھائیں ۔

اس کی واضح مثال ان شوز میں بڑھتی ہوئی عریانیت ہے جس میں کبھی تو بچوں اور بچیوں کو فحش آئٹم سانگز پر نچوایا جاتا ہے تو کبھی مرد اور عورتوں کو عجیب و غریب انداز میں یوگا کرتے ہوۓ غیر اخلاقی انداز میں ہم آغوش ہوتے دکھایا جاتا ہے ۔ ایسا ہی ایک عملی مظاہرہ ایک چینل میں صبح کی نشریات میں یوگا کرواتے ہوۓ کیا گیا ۔

https://www.facebook.com/kolachian/videos/2015373342044049/

یوگا سکھانے والے انسٹرکٹر نے تانترا نامی مشق کا عملی مظاہرہ ٹیلی وژن اسکرین پرکر کے  دکھایا ۔یوگا کی یہ مشق عام طور پر دو مخالف صنف کے لوگ مشترکہ طور پر کرتے ہیں ۔ جس میں یکساں حرکت کرنا اور سانس لینا ہی درحقیقت اس میں سب سے اہم ہوتا ہے ۔اس میں ایک رکن زمین پر لیٹ جاتا ہے جب کہ دوسرا رکن اس لیٹے ہوۓ رکن کے پیروں کے سہارے اپنے جسم کو اس کے جسم پر سے اوپر اٹھاتا ہے ۔

اس قسم کے مناظر ایک اسلامی معاشرے کے ٹیلی وژن اسکرین پر دیکھنے کے بعد لوگوں کی جانب سے الگ الگ ردعمل کا اظہار کیا گیا ۔ کچھ لوگوں کے مطابق انہیں اس مشق کے ذریعے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جب کہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز آنے والے شدید زلزلہ کا سبب درحقیقت یہی پروگرام تھا ۔

جس میں اس حد تک واہیاتی اور عریانیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے جب کہ کچھ لوگوں کا تو یہ بھی خیال تھا کہ لوگوں کے سامنے اس لڑکے اور لڑکی کو اس قسم کی حرکات کرنے کے بعد ان دونوں کے لیۓ ایک دوسرے سے نکاح واجب ہو گیا ہے ، اگرچہ یوگا سیکھنا اور سکھانا کوئي معیوب عمل نہیں ہے مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیۓ کہ ٹی وی ہمارے لیۓ تفریح کا وہ ذریعہ ہے جو کہ ہم سب اپنے گھر والوں کے ساتھ دیکھتے ہیں ۔

To Top