پیار محبت کا ستھرا اور میلا روپ جو سب کچھ تباہ کردے

پیار محبت کا ستھرا اور میلا روپ جو سب کچھ تباہ کردے

میرا شمار لڑکوں کے اس گروہ سے ہوتا ہے جس نے ہمیشہ اچھا بچہ بننے کی کوشش کی ۔ اسکول کے زمانے سے ہی میں نے ہمیشہ وہ سب کیا جس کی اجازت میرے والدین نے دی اسی وجہ سے خاندان بھر میں میری مثالیں دی جاتی تھیں ۔ تعلیمی میدان میں بھی میرا ریزلٹ ہمیشہ سے نمایاں رہا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی مدارج طے کرتے ہوۓ جب میں نے کالج میں قدم رکھا تو میرا کالج کو ایجوکیشن تھا اس طرح زندگی میں پہلی بار مجھے لڑکیوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا اکلوتا ہونے کے سبب چونکہ  میری کوئی بہن نہ تھی اسی سبب کسی بھی لڑکی کے ساتھ واسطہ پڑنا وہ بھی عمر کے اس حصے میں میرے لیۓ ایک اجنبی احساس تھا

اکثر تو میں شرم اور ہچکچاہٹ کے سبب سیدھی بات کا بھی الٹا جواب دے دیا کرتا تھا جس پر میرے ساتھی کلاس فیلو میرا بہت مزاق بھی بناتے تھے  ۔اس سب کے باوجود میری کوشش یہی رہی کہ میرا کوئی بھی عمل میرے والدین کے لیۓ شرمندگی کا سبب نہ بنے ۔اکثر جب میرے کلاس فیلو بیٹھ کر لڑکیوں پر تبصرے کر رہے ہوتے اس وقت میں میں ان کے درمیان خود کو اجنبی محسوس کرتا جس کو میرے ساتھیوں نے بھی محسوس کیا ۔


میری اس کمزوری کو دور کرنے کے لیۓ میرے دوستو نے مختلف قسم کے مشورے دینے شروع کر دیۓ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمر کے اس دور میں میں نے اپنی کمزوری پر قابو نہیں پایا تو کبھی بھی ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہو سکوں گا ۔ ان ہی کے مشورے پر میں نے لڑکیوں میں دلچسپی لینی شروع کر دی ۔دلچسپی کا آغاز ان کو غور سے دیکھنے سے ہوا میرے دوستو کا کہنا تھا کہ لڑکیاں دیکھنے کے قابل چیز ہوتی ہیں بس دیکھنے والی نظر ہونی چاہیۓ ۔

اس سے اگلے مرحلے میں میرے دوستو کا کہنا تھا کہ مجھے لڑکیوں سے دوستی کرنی چاہیۓ ۔اس مقصد کے لیۓ انہوں نے مجھے کلاس کی مختلف لڑکیوں کے فون نمبر بھی لا کر دیۓ تاکہ میں ان سے بات چیت شروع کر سکوں ۔اس سے اگلے مرحلے میں انہوں نے مجھے ایسی ویڈیوز بھی دکھانی شروع کر دیں جس میں گندے اور فحش مناظر ہوتے تھے ۔

ان تمام باتوں نے میری نفسیات پر بے انتہا برے اثرات مرتب کۓ مگر میرے دوستو کا یہ کہنا تھا کہ وہ یہ سب میرے علاج اور میری سوئی مردانگی کو جگانے کے لیۓ کر رہے ہیں اس وجہ سے میرا یہ سب دیکھنا بہت ضروری ہے ۔ اسی دوران میری دوستی اپنی ہی کلاس کی ایک لڑکی سے ہو گئي

جو بظاہر تو قبول صورت تھی مگر مجھے بہت حسین لگتی تھی اس کا انداز اور پہناوا سب کچھ مجھے بہت پسند تھا میرا دل چاہتا تھا کہ ہر وقت یا تو اس کو دیکھتا رہوں یا پھر اس سے باتیں کرتا رہوں میرے دوستو نے بتایا کہ یہی محبت کی شروعات ہوتی ہے اور اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ میں مرد ہوں ۔

اس لڑکی کے ساتھ ہونے والی تمام بات چیت سے میں اپنے دوستو کو لازمی آگاہ کرتا تھا اور ان کی ہدایات کی روشنی میں ہی اس لڑکی کے پیغامات کا جواب دیتا تھا ۔ایک دن ان لڑکوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے جب مجھے اس لڑکی سے پیار کا اظہار کر دینا چاہیۓ اور ایسا ہی میں نے کیا ۔

میں نے ان لڑکوں سے پوچھ کر کچھ حسین اشعارلکھے او ر ان  کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کر دیا  تو جواب میں اس لڑکی نے بھی میری محبت کا مثبت جواب دیا وہ دن میری زندگی کا حسین ترین دن تھا مجھے لگا کہ مجھے دونوں جہانوں کا خزانہ مل گیا ہے ۔ ہم رات بھر ایک دوسرے کے ساتھ میسج کرتے تھے صبج کا آغاز  ایک دوسرے کی تصویر کو دیکھ کر کیا کرتے تھے جو روزانہ ہم ایک دوسرے کو گڈ مارننگ میسج کے ساتھ بھیجتے تھے ۔

مگر میرے دوستو نے اب مجھے سمجھایا کہ اگر میں نے اس لڑکی کو اپنی مردانگی کی جھلک نہ دکھائی تو کبھی بھی اس کو پانے کے قابل نہ ہو سکوں گا کیوں کہ لڑکیاں یہی چاہتی  ہیں کہ ان کو چاہنے والا تمام مردانہ اوصاف کا حامل ہو لہذا اس کے لیۓ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اس لڑکی کے ساتھ اس قسم کی گفتگو کروں جس سے جزبات کو بھڑکایا جا سکے اس کے بعد اس لڑکی سے رازداری کے وعدے کے ساتھ اس کی بے لباس تصویروں  کا تقاضا کروں

میری عقل پر اس وقت دوستو کی باتوں کی پٹی بندھی ہوئی تھی اور میں ہر طریقے سے اس کو یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں ایک مکمل مرد ہوں  لہذا میں نے ویسے ہی کیا جیسا میرے دوستو نے کہا تھا لڑکی نے شروع میں تو پس و پیش کا مظاہرہ کیا مگر آخر کار میری ضد کے سامنے اس کو مانتے ہی بنی ۔ اس کی بھیجی ہوئی تصویروں نے مجھے ہیجان میں مبتلا کر دیا میں نے وہ تصویریں اپنے دوستو کو بھی دکھائيں اور شاید یہی میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔

میری لاعلمی میں میرے کسی دوست نے وہ تصویر اپنے موبائل میں بھی شئر کر دی اور اس کے بعد اس نے اس لڑکی کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا کہ مجھ سے اکیلے میں آکر ملو ورنہ میں یہ تصویر فیس بک کے پیچ پر شئیر کر دوں گا ۔ اس لڑکی نے جب مجھےیہ سب بتایا تو میں گھبرا گیا اور میں نے نہ صرف اپنا موبائل نمبر بدل دیا بلکہ کالج جانا بھی چھوڑ دیا ۔

اس لڑکی کے ساتھ اس سارے وقت میں کیا ہوا میں نہیں جانتا مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ امتحانات سے ایک دن پہلے اس لڑکی کی لاش اس کے کمرے میں پائی گئی ۔ میں آج بھی اس کی موت کا ذمہ دار خود کو سمجھتا ہوں ۔ میرے والدین جب بھی مجھ سے شادی کا تقاضا کرتے ہیں مجھ ڈپریشن کے دورے پڑنے لگتے ہیں ڈر کے مارے اب انہوں نے بھی کچھ کہنے سے اجتناب برتنا شروع کر دیا ہے

مجھے میرے ان دوستو نے برباد کر دیا جن پر مجھے یقین تھا یا پھر اپنی بربادی کا ذمہ دار میں خود تھا ۔میری وجہ سے ایک معصوم لڑکی زندگی کی بازی ہار گئی

To Top