معاشرہ عورتوں کو برداشت کرنا کب سیکھے گا؟

معاشرہ عورتوں کو برداشت کرنا کب سیکھے گا؟

معاشرتی جانور ہونے کی حیثیت سے حضرت انسان اور خصوصا مرد اس حقیقت سے بخوبی آکاہ ہیں کہ عورتوں کے بغیر معاشرے کا تصور محال ہے۔ حضرت آدم سے لے کر آج تک مردوں کو نظام زندگی چلانے کے لۓ عورتوں کا ساتھ درکار ہوتا ہے ۔ مگر کیا کہیں کہ وہ جو ایک خصلت مردوں میں اصیل مرغوں والی بھی ہے کہ جب بھی چلنا ہے عورتوں سے چند قدم آگے چلنا ہے تاکہ اس کو یہ احساس دلایا جاسکے کہ وہ ناتواں ہے ۔

1

اس بات سے انکارنہیں کہ عورت کا اولین فریضہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور شوہر کو خانگی سکون پہنچا نا ہے ۔یہ تو ہمیں یاد رہا مگر یہ بھول گۓ کہ مرد کا بھی فرض ہے کہ بیوی کی تمام ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرے ۔اس موقع پر مرد مغربی مثالوں کا سہارا لیتے ہوۓ عورت کو گاڑی کا دوسرا پہیہ بنا لیتا ہے ۔اور اپنے ساتھ کمانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔

یاد رہے کہ جب عورت مرد کی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹا رہی ہے تو کتنے مرد ایسے ہیں جو عورت کی ذمہ داریوں میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں ؟ یقینا ان کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے ۔یہاں مردوں کی فطرت کا تضاد کھل کر سامنے آتا ہے ۔ یعنی ان کو بیوی بھی ایسی چاہۓ جو ان کے ساتھ معاشی میدان میں شانہ بشانہ کھڑی ہو گھر بھی صاف ستھرا چاہۓ بچے بھی تمیز دار چاہۓ ہیں اور خود اپنے کام کے علاوہ کچھ کرنا بھی نہیں ۔

Shameem Akhtar, a Merlin lady health visitor with Doctor Muhammad Afzal, Project Medical Coordinator working at the government health centre in Mitho Barbar, Dadu, Thatta, Sindh, Pakistan on July 4, 2011.

اس کے بعد اگر عورت اپنی محنت اور لگن کے سبب اگر مرد سے آکے نکل جاۓ تو یہ اصیل مرغے یہ بھی برداشت نہیں کر پاتے اور ہر وقت کی دانتا کل کل شروع ہو جاتی ہے ۔ ہر شعبہ زندگی میں ایسے مرد موجود ہیں جو نہ صرف عورتوں کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں بلکہ اپنے سے آگے بڑھنے والی عورتوں کا راستہ روکنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔

اس عدم برداشت کی پالیسی کے سبب عورتیں نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں جس کے سبب وہ اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو جاتی ہیں ۔اس لۓ ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنا چاہۓ تاکہ معاشرے کا توازن برقرار رہ سکے ۔

 

To Top