میں نے اپنی ماں کی خوشی کی خاطر بیوی کو مار ڈالا مجھے جنت ملے گی یا نہیں

میں نے اپنی ماں کی خوشی کی خاطر بیوی کو مار ڈالا مجھے جنت ملے گی یا نہیں

میرے اعصاب تن گۓ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں دونوں کو کس طرح چپ کرواؤں ایک جانب میری ماں تھیں جن کا کہنا تھا کہ میری بیوی ان کا احترام نہیں کرتی ان کے ساتھ زبان درازی کوتی ہے جب کہ دوسری جانب میری بیوی تھی جس کو میری ماں سے یہ شکایت تھی کہ ان کو اس کا کوئی عمل بھی پسند نہیں آتا ہر بات بری لگتی ہے ۔

اس کے بعد مجھے اچانک نہ جانے کیا ہوا میں اٹھا اور میں نے پیر سے جوتی اتاری اور اپنی بیوی کو روئی کے گالے کی طرح دھنکنا شروع کر دیا جیسے جیسے اس کی چيخیں بلند ہوتی جا رہی تھیں میری ماں کی آواز کم ہوتی جا رہی تھی اور ان کے چہرے پر ایک اطمینان اور سکون کی لہر دوڑتی جا رہی تھی ۔


یہ کوئی پہلی بار نہیں تھی میں اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا میری ماں نے مجھے بہت صعوبتوں سے پال کر اس مقام تک پہنچا یا تھا جب کہ میں ایگزيکٹو پوسٹ کا حامل بندہ تھا مگر اس بات کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ میری لائف اسٹائل کو یہ رتبہ دینے میں میری بیوی کا بھی اہم کردار ہے جس نے گزشتہ پانچ سالوں سے نوکری کر کے میرے گھر کے معاشی معاملات اس وقت بھی سنوارے تھے جب میرے پاس اچھی نوکری نہ تھی ۔

دنیا کی نظر میں میں ایک کامیاب انسان تھا مگر ماں اور بیوی کے درمیان مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط ۔ ہر جھگڑے کا اختتام یہی ہوتا تھا کہ میں بیوی کو پیٹ ڈالتا اور کچھ دن کے لیۓ گھر میں خاموشی ہو جاتی ۔ میری بیوی ایک پڑھی لکھی عورت تھی مگر معاشرے کے دباؤ کے تحت چپ چاپ میری مار کھانے پر مجبور تھی کیوں کہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ مجھ سے طلاق کی صورت میں وہ بچوں سے جدا ہو یا پھر اس کے بچے طلاق یافتہ ماں کے بچے کہلائیں ۔

اس کی اسی مجبوری نے مجھے شیر بنا دیا تھا اب تو ماں کو خوش کرنے کی خاطر میں اس کو معمولی معمولی باتوں پر بھی مار دیا کرتا تھا جس کے نتیجے میں میری ماں میرا سر منہ چومتی اور ہر ملنے والے کے سامنے بتاتی کہ میرا بیٹا زن مرید نہیں ہے اس نے بیوی کو بیوی کی جگہ اور ماں کو ماں کی جگہ پر رکھا ہوا ہے

اس دن بھی میں دفتر سے واپس آیا تو گھر میں وہی جھگڑا چل رہا تھا کہ میری بیوی نے آج گھر میں کھانا کھانے کے بجاۓ اپنے آفس والوں کے ساتھ باہر ہی کھانا کھا لیا تھا جس پر میری ماں  نے اسے حرافہ کہا جو میری بیوی کو برداشت نہ ہوا اور اس نے میری ماں سے  بدتمیزی کی ۔

میں نے اپنی پینٹ کا بیلٹ کھولا اور گھسیٹتے ہوۓ اپنی بیوی کو کمرے کی جانب لے گیا اور دروازہ بند کر کے اس کو مارنا شروع کر دیا وہ چیختی جا رہی تھی مگر مجھے اس کی پرواہ نہ تھی میں نے سوچا تھا کہ تھوڑا سا ماروں گا تو گھر میں سکون ہو جاۓ گا میں نے جب اپنی بیوی کو فرش پر پٹخا تو اس کے سر سے خون نکلنے لگا ۔

مجھے لگا معمولی چوٹ ہے میں اس کو بیلٹ سے پیٹتا رہا مگر وہ بے حس و حرکت مار کھاتی رہی ایسا تو پہلی بار ہوا تھا میں ٹھٹک گیا اس کو اسی حالت میں چھوڑ کر میں اپنی ماں کے پاس چلا گیا مجھے بہت بھوک لگ رہی تھی ۔ میں نے اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا ۔ اس کے بعد جب کمرے میں گیا تو وہ اب بھی وہیں بے حس و حرکت پڑی تھی ۔

اس بار اس کا ڈرامہ زیادہ ہی ہو گیا تھا میں نے اس کو پیر سے سیدھا کیا تو اس کا بے جان وجود دیکھ کر میں ڈر گیا میں بھاگتا ہوا ماں کے پاس آیا اور ان کو بتایا ۔ جب تک ڈاکٹر کے پاس لے کر گۓ وہ مر چکی تھی ۔ اس کے بعد پولیس آئی مجھے گرفتار کر کے ہتھکڑیاں پہنا کر لے گئی ۔

لوگ کہتے ہیں کہ مجھے پھانسی کی سزا ہو جاۓ گی جب کہ مجھے لگتا ہے کہ میں جنت میں جاؤں گا کیوںکہ میری ماں تو مجھ سے راضی ہے نا میں نے تو جو بھی کیا اپنی ماں کو خوش رکھنے کے لیۓ کیا اور اللہ تو سب کی نیتیں جانتا ہے نا اب آپ ہی بتائیں کہ کیا میں نے غلط کیا ؟؟

 

To Top