میاں بیوی کے تعلقات میں ترک اسکالر نے اورل سیکس کے بارے میں ایسا فتوی دے دیا کہ علماء میں بحث چھڑ گئی

میاں بیوی کے تعلقات میں ترک اسکالر نے اورل سیکس کے بارے میں ایسا فتوی دے دیا کہ علماء میں بحث چھڑ گئی

دنیا بھر کے مسلمان اس وقت بڑے بڑے مسائل کا شکار ہیں ان کی معیشت ان کی تہزیب اور معاشرت جن خطرات کا شکار ہے ان کی جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔اکیسویں صدی کے خطرات اور قرب قیامت کی نشانیاں جو پے در پے سامنے آتی جا رہی ہیں انہوں نے حساس دل رکھنے والے مسلمانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم سب کس طرف جا رہے ہیں جب کہ اس کے معابلے میں کچھ علماء یہ سوال لے کر بیٹھے ہیں کہ اورل سیکس جائز ہے یا نہیں

مگر اب بھی علماء کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو مسلمانوں کو ایسے لایعنی مسائل میں الجھا دینا چاہتے ہیں جن میں الجھ کر مسلمان دین کی سربلندی کے لیۓ کچھ نہ کر پائیں ایسی ہی ایک بحث آج کل ترقی کے اسلامی حلقوں میں زور و شور سے جاری ہے جس کا حاصل وصول کچھ بھی نہیں ہے

ہ گزشتہ ہفتے ایک عالم دین علی رضا دمیرکان نے فتویٰ جاری کیا کہ میاں بیوی کے درمیان منہ زبانی جنسی فعل (اورل جنسی فعل) حرام ہے ان کے اس فتوۓ کے بعد ترکی کے ایک اور عالم دین سامنے آۓ اور انہوں نے اس فتوی کے جواب میں ایک اور فتوی جاری کر دیا جس کے مطابق اورل سیکس حرام نہیں ہے

عالم دین احمد محمود انلو نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی احکامات میں کہیں بھی اس جنسی عمل کی ممانعت نہیں کی گئی لہٰذا اسے حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ان کا کہنا ہے کہ ایک اہم فقہی مکتبہ فکر انسانی نطفے کو پاک قرار دیتا ہے جبکہ ایک دوسرا بڑا مکتبہ فکر اسے ناپاک قرار دیتا ہے، لیکن یہ وضاحت بھی کرتا ہے کہ اسے خشک ہوجانے پر کھرچ دینے سے لباس صاف ہوجاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ایک مکتبہ فکر کے علماء منہ زبانی جنسی فعل (اورل جنسی فعل) کو جائز قرار دیتے ہیں۔

اپنے فتوی کے ساتھ ساتھ انہوں نے عالم دین رضا دمیرکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اورل سیکس کو حرام قرار دیۓ جانے والے اپنے فتوی کا ماخذ بیان کریں

دونوں علماء دین کے فتوؤں کے سامنے آنے کے بعد ان کی حمایت اور اس کی مخالف علماء کرام میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے ۔اور اس بحث کے سبب شادی شدہ جوڑے تزبزب کا شکار ہو گۓ ہیں کہ وہ اس حوالے سے کیا کریں اور کیا نہ کریں ۔

شرعی مسئلے کے طور مجھے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس سے اجتناب کرنا چاہیے کہ قرآن مجید نے عورتوں کو کھیتی سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ تم کھیتی میں آو۔ اور کھیتی وہ مقام ہے جہاں بیج بویا جا سکے اور فصل حاصل ہوتی ہو اور یہ عورت میں مادر رحم کا مقام ہے کہ جہاں سے انسان کو اولاد حاصل ہوتی ہے۔ انسان کا نطفہ ایک طرح سے بیج ہے تو اس سے حاصل ہونے والی اولاد فصل ہے۔

Parhlo

Parhlo.com is the leading open platform that represents the voice of youth with viral stories and believes in not just promoting Pakistani talent and entertainment but in liberating Pakistani youth and giving rise to young changemakers!

Posts
Parhlo Newsletter
Parhlo Newsletter

You have Successfully Subscribed!

To Top