کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے ازدواجی تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے ازدواجی تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

اسلامی نقطہ نظر سے میاں بیوی کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے جو ایک جانب تو بہت مضبوط ہوتا ہے تو دوسری جانب انتہائی کچی ڈور سے بندھا ہوتا ہے اس رشتے میں ایک طرف تو خوشیوں کی قوس و قزح ہوتی ہے تو دوسری جانب دھوپ چھاؤں جیسے سکھ دکھ بھی ہوتے ہیں جو ان دونوں نے ساتھ گزارنے ہوتے ہیں

میاں بیوی کا رشتہ اللہ تعالی نے نکاح کے دو بولوں سے باندھا ہوتا ہے ان دو بولوں کے ساتھ محبت ،ایثار اور قربانی جڑے ہوتے ہیں جو کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ شادی کی پہلی رات اپنی ازدواجی زندگی کے آغاز سے قبل دو نفل مشترکہ طور پر پڑھنا سنت نبوی سے ثابت ہے

ایک دوسرے کے ساتھ جب میاں بیوی اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تو اس سے بہت سارے دینی فوائد کے ساتھ ساتھ دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں

محبت بڑھتی ہے

جب میاں بیوی ایک ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں تو اس طرح وہ اس رحمن کے سامنے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جس محبت کی ڈور سے اللہ تعالی نے ان دونوں کو باندھا ہے وہ اس کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ اس کو نبھانے اور کامیاب بنانے کی پوری کوشش کرتے ہیں جس سے ان کے درمیان محبت میں اضافہ ہوتا ہے

روحانی پختگی حاصل ہوتی ہے

جیسے کہ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے کہ اس نے نیک مردوں کے لیۓ نیک عورتیں اور بد مردوں کے لیۓ بد عورتیں اتاری ہیں تو اس لیۓ جب میاں بیوی اللہ کی بارگاہ میں ایک ساتھ حاضر ہوتے ہیں ایک ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں تو رحیم و کریم رب ان لوگوں کے روحانی درجات کو یکساں طور پر بلند کرتا ہے جس سے ان کی ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے

خود غرضی کا خاتمہ ہوتا ہے

جب میاں بیوی ایک ساتھ اللہ کی راہ میں جھکتے ہیں اس سے مدد مانگنے کے لیۓ ایک ساتھ ہاتھ اٹھاتے ہیں تو قدرتی طور پر ایسے موقعے پر انسان صرف اپنے لیۓ دعا نہیں مانگ سکتا اس موقعے پر وہ اپنے ساتھ اس انسان کی دعا کی قبولیت کی بھی درخواست کرتا ہے جو اس کے ساتھ ہاتھ پھیلاۓ کھڑا ہے اور اس طرح عام زندگی میں بھی انسان کے اندر یہ رویہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ عام معاملات میں بھی صرف اپنے لیۓ سوچنے کے بجاۓ اپنے جوین ساتھی کے لیۓ بھی ساتھ می سوچتا ہے

گھر کے سکون اور برکت میں اضافہ ہوتا ہے

میاں بیوی ایک ہی گاڑی کے دو پہیۓ ہوتے ہیں جب ان کی خوشیاں اور غم سانجھے ہوتے ہیں اسی لیۓ جب وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں ایک ساتھ ہاتھ اٹھا کر ایک ہی چیز مانگتے ہیں تو ان کی یہ محبت اللہ تعالی نظر انداز نہیں کر سکتا اور ان پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش فرماتا ہے

یہاں اس امر کو یاد رکھیں کہ ایک ساتھ نماز پڑھنے سے مراد اللہ  کی جانب رجوع کرنا ہے اللہ تعالی سے مشترکہ طور پر دعا کرنا ہے اور شرعی طور پر بھی میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ یا ایک دوسرے کے آگے پیچھے نماز ادا کر سکتے ہیں اور اس میں شرعی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے

To Top