مانع حمل اشیا کے اشتہارات میں متھیرا ایک بار پھر جلوہ افروز اس بار کیا کر دیا کہ سب ہی دیکھتے رہ گۓ

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس کی معاشرت میں کچھ ایسے اصول و ضوابط ہیں جن پر عمل کرنا ہر فرد کے لیۓ لازمی ہے مشرقی اقدار کے سبب عام گھرانوں میں شادی اور اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے یہی سبب ہے کہ عام طور پر ہمارے گھرانوں میں مانع حمل اشیا اور وقفے کے طریقوں میں بات یا تو چوری چھپے کی جاتی ہے یا پھر بہت ڈرتے ڈرتے کی جاتی ہے

مگر گزرتے وقت میں آنے والی بہت ساری تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی اب یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بھی اب کنڈوم کے اشتہارات نہ صرف بننے لگے ہیں بلکہ یہ اشتہارات کبھی کبھار سوشل میڈیا کے علاوہ ٹیلی وژن پر بھی ڈرتے ڈرتے نظر آ ہی جاتے ہیں

کنڈوم کے اشتہارات جن کا سلسلہ ساتھی سے شروع ہوا تھا اب ایک پرائيوٹ کمپنی جوش کے کنڈوم تک جا پہنچا ہے وقتا فوقتا جوش کے اشتہارات عوام کی نظر سے گزرتے رہتے ہیں جن میں جوش کے ساتھ متھیرا کا ہونا بھی لازمی ہوتا جا رہا ہے یہاں تک کہ اگر یہ کہا جاۓ کہ متھیرا جوش کی برانڈ ایمبسٹر کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں تو کچھ غلط نہ ہو گا

ہر بار جب بھی جوش کا اشتہار منظر عام پر آتا ہے اس میں ذو معنی اشارے اور متھیرا کے انداز سے کچھ سمجھتے اور کچھ نہ سمجھتے ہوۓ بھی دیکھنے والوں کے پسینے چھٹ جاتے ہیں

موجودہ اشتہار ہی کو دیکھ لیں یہ اشتہار جس میں ایک نو بیاہتا جوڑے کو دکھایا گیا ہے جو شادی کے بعد پہلی بر آفس جانے کی تیاری کرتے ہوۓ نظر آتا ہے اور ان کی ملازمہ ان کے لیۓ ناشتے کی تیاری کر رہی ہے مگر متھیرا یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ کہین دیر نہ ہوجاۓ اور ان کو ابھی آفس نہیں جوائن کرنا چاہیۓ تھی

جس پر ان کے شوہر نامدار ان کو کہتے ہیں کہ ان کو شاید دانے دار چاہیۓ ذومعنی انداز میں کہا گیا یہ جملہ ایک جانب تو متھیرا کو کچھ اور سمجھاتا ہے جب کہ ملازمہ اس بات کو دانے دار چاے کی خواہش سے معمور کرتی ہیں

اس کے بعد یہ جوڑا منظر سے غائب ہوجاتا ہے اور ان کے بیڈ روم کا دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے کچھ دیر بعد جب وہ فریش ہو کر باہر اتے ہیں تو تب تک ملازمہ دانے دار چاۓ تیار کر چکی ہوتی ہے مگر اب اس جوڑۓ کی دانے دار کی خواہش ختم ہو جاتی ہے اس لیۓ وہ ملازمہ کو اس کو پینے کا حکم دے کر آفس کے لیۓ نکل جاتے ہیں


اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اس کا ایک بڑا مسلہ ہے ایسے حالات میں مانع حمل اشیا عصر حاضر کی اہم ضرورت ہیں مگر ان کے اشتہارات کو اس طرح جنسی ترغیب کے لیۓ استعمال کرنا ایک مناسب عمل نہیں ہے

ان اشتہارات کو مثبت سوچ اجاگر کرنے کے لیۓ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور ان کے ذریعے عوام الناس تک ان کی افادیت کو پہنچایا جا سکتا ہے جب کہ موجودہ صورتحال میں یہ اشتہارات صرف اور صرف لوگوں میں جنسی خواہش کی ترغیب کا ذریعہ رہ گیا ہے