کیا اسلام میں مانع حمل ادویات کا استعمال جائز ہے ؟

کیا اسلام میں مانع حمل ادویات کا استعمال جائز ہے ؟

مانع حمل ادویات کا استعمال دو طریقوں سے کیا جا سکتا ہےایک مستقل طریقہ ہے جس  طریقے کے مطابق تومرد کے اندر نس بندی کر کے اولاد پیدا کرنے کے خلیات کے بننے کا سلسلہ روک دیا جاتا ہے اور عورتوں کے اندر آپریشن کروا کر ایسا بندوبست کر لینا ہے کہ جس کے ذریعے  بچے دانی کو جسم سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ حمل ٹہر ہی نہ سکے ۔

مگر اس کے علاوہ عارضی طریقے بھی موجود ہیں جن کے ذریعے میاں اور بیوی باہمی مشاورت سے اس بات کا بندوبست کر لیتے ہیں کہ جنسی عمل کے بعد بھی حمل ٹہر نہ سکے ۔ اس طریقے میں مانع حمل ادویات یا پھر دیگر ذرائع کا سہارا لیا جاتا ہے ۔ علما کرام اس قسم کی ادویات کو بعض شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں ۔

سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت: “اور تم اپنی اولاد کو مال کے خوف سے قتل نہ کرو” کی تفسیر میں مولانا مودودی صاحب نے “تفہیم القرآن” میں آج کل کی مانع حمل تدابیر کو بھی قتلِ اولاد میں شامل کیا ہے

آج کل کے دور میں آبادی میں اضافے کی روک تھام کے لیۓ جو تحریکیں چلائي جا رہی ہیں ان کا بنیادی نقطہ غربت کا بنیادی سبب کثرت اولاد کو قرار دیا گیا ہے اور اسی سبب اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس بات کا بندوبست کیا جاۓ کہ اولاد کی پیدائش سے قبل ہی اس کے وجود میں آنے کے راستے مسدود کر دیۓ جائیں ۔

جیسا کہ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے اسی سبب اگر میاں بیوی اولاد کے دنیا میں آنے کے راستے صرف غربت اور دیگر مالی پریشانی کے سبب کر رہے ہیں تو یہ گناہ عظیم ہے البتہ اگر اس عمل کے پیش نظر عورت کی صحت اور اس کا خیال ہے تو اس بات کو بعض شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا گیا ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان  ہے: (تم  محبت کرنیوالی اور زیادہ بچے جننے والی خاتون سے شادی کرو، بیشک میں تمہاری وجہ سے دیگر امتوں پر فخر کرونگا)؛

اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ زیادہ بچے جننے والی عورت کو زیادہ فوقیت دے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مانع حمل ادویات وغیرہ جو عورتیں استعمال کرتی ہیں اس کے دیگر اثرات عورتوں کی صحت کے لیۓ بہت نقصان دہ ہوتے ہیں جن سے اگر لوگ آگاہ ہو جائیں تو کبھی بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی نہ کریں گۓ

 

To Top