انیس سالہ کینسر کی مریض ماں کا اپنے بچہ کے لیۓ کینسر کے علاج سے انکار

انیس سالہ کینسر میں مبتلا ماں کا بچہ کی زندگی کے لیۓ کینسر کے علاج سے انکار ،ممتا کی ایسی داستان جو ایک مثال بن گئی

ماں اس زمین کا وہ حسین ترین رشتہ ہے جس کی عظمت سے کسی بھی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ماں مشرق کی ہو یا مغرب کی مگر اس کی ممتا سب کے لیۓ ایک جیسی ہوتی ہے عام طور پر لوگوں کا یہ ماننا ہوتا  ہے کہ ماں کی ذات اور اس کی قربانیاں جو مشرف کی ماں کا وطیرہ ہے مغرب میں ایسی ماں نہیں ہوتی

مگر آسٹریلیا ، سڈنی کی رہنے والی ایک کم عمر ماں نے ان تمام نظریات کی نفی کر دی ہے تغصیلات کے مطابق برائینا رالنگ ایک انیس سالہ لڑکی تھی جو کہ اپنی عمر کی دیگر تمام لڑکیوں کی طرح جوش جزبے اور خوابوں سے بھرپور دل کی حامل تھی ۔ ارمانوں بھرے اس دل والی برائینا کو جب یہ پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہے تو اس کے دل میں اپنے پیدا ہونے والے بچے کی محبت پیدا ہونے ایک قدرتی امر تھا

مگر بدقسمتی سے حمل کے صرف چار ماہ کے بعد ہی برائينا پر یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ وہ لیوکیمیا یا خون کے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہے اور اس کی زندگی صرف اسی صورت میں بچ سکتی ہے اگر وہ فوری طور پر کیموتھراپی کروا لے مگر برائینا کی زندگی بچانے والی کیموتھراپی اور برائينا کے بیچ واحد رکاوٹ صرف اور صرف اس کا وہ بچہ تھا جو برائينا کی کوکھ میں پل رہا تھا

برائينا اپنی ممتا کے آگے مجبور

کیموتھراپی کا مطلب بچے کی یقینی موت تھی اور کیموتھراپی کا نہ ہونا برائينا کی موت کا سبب بن جاتا  اس مشکل فیصلے کا حق ڈاکٹروں نے برائينا کو سونپ دیا جس نے اپنی ممتا کے ہاتھوں اپنی  زندگی پر اپنے بچے کو ترجیح دی اور اس بات کا فیصلہ کیا کہ جب تک اس کے بچے کی پیدائش نہیں ہو جاتی وہ کیموتھراپی نہیں کرواۓ گی

برائينا کے مرض میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا تھا جس سے ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے پیدا ہونے والے بچے کے متاثر ہونے کا بھی ڈر تھا اسی سبب ڈاکٹروں نے ساتویں مہینے ہی سی سیکشن کے ذریعے اس بچے کی پیدائش کر دی قبل از وقت پیدائش کے سبب برائینا کا بچہ بھی بہت کمزور تھا

اس موقع پر برائینا نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے اپنی اور اپنے بچے کی تصویر شئیر کرتے ہوۓ کیپشن دیا کہ دنیا میں میرے لیۓ سب سے بڑی خزشی یہ ہے کہ میرا بیٹا پلے بڑھے اور مضبوط ہو پندرہ ستمبر کو پیدا ہونے والا یہ کمزور بچہ صرف بارہ دن ہی اپنے ماں باپ کی گود میں رہ سکا اور اس کے بعد اس بچے کی موت واقع ہو گئی

بچے کی موت کے بعد برائينا کی کیموتھراپی بھی شروع کی گئي مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی برائینا ایک کم عمرممتا کی ماری  ماں کی زندہ رہنے کا مقصد اب اس دنیا میں نہیں رہا تھا اس لیۓ برائينا کی بھی دلچسپی اس دنیا سے ختم ہو گئي تھی اور بلاآخر 29 دسمبر کو برائينا اس دنیا سے منہ موڑ گئی اور ہمیشہ کے لیۓ اپنے بیٹے کے پاس چلی گئي

آج یہ ماں بیٹا اگرچہ اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ماں کی محبت اور ممتا کی یہ داستان ہمیشہ کے لیۓ امر ہو گئي ہے

To Top