مالک مکان صرف مکان کا نہیں بلکہ آپ کی ہر چیز کا مالک ہوتا ہے

مالک مکان صرف مکان کا مالک نہیں ہوتا بلکہ آپ کی ہر چیز کا مالک ہوتا ہے

اس بات کا پتہ آج تک لوگوں کو نہیں چل سکا کہ سب سے پہلا مکان کرا‎ۓ پر کب دیا گیا مگر مالک مکان اور کراۓ دار کا تعلق ہماری سوچ سے بھی ذیادہ قدیم ہے ۔ مالک مکان سے مراد وہ فرد ہے جس کے مکان میں آپ اپنے سارے سامان کے ساتھ ماہانہ کراۓ کے عوض رہتے ہیں ۔

کچھ کراۓ دار یہ سمجھ لیتے ہیں کہ چونکہ وہ کرایہ دیتے ہیں تو ان کو اس مکان پر مالکانہ حقوق حاصل ہو جاتے ہیں ان کی اس غلط فہمی کا خاتمہ مالک مکان کی مختلف اقسام اپنے اپنے طریقوں سے کرتے ہیں ۔

حساب کتاب کا ماہر

1

مالک مکان حساب کا ایسا عمل جانتا ہے جس کے سبب کراۓ دار ہمیشہ اس کا مقروض ہی رہتا ہے ۔ کبھی بجلی کے بل کے عوض تو کبھی کسی اور نادیدہ بل کے سبب ۔ کراۓ دار ہر مہینے کراۓ دینے کے باوجود کسی نہ کسی بل کی عدم ادائیگی کے سبب مالک مکان سے نظریں ملا کر بات کرنے کے قابل نہیں ہوتا اور اس کے سامنے شرمسار ہی رہتا ہے ۔

ٹھرکی قسم کے مالک مکان

2

مالک مکان کی یہ قسم ہر قسم کے معاملات پر بات کرنے کے لۓ اس وقت کا چناؤ کرتا ہے جب آپ گھر میں موجود نہیں ہوتے اس بہانے اس کو آپ کی بیگم سے آپ کی برائیاں کرنے اور شکائیتیں کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔اور کہیں آپ کی بیگم ذيادہ ہی وضع دار ہوں تو ان سے سبزی بھی منگوائی جا سکتی ہے اور وہ بخوشی آپ کی بیگم کو سبزی لا کر دینے کے لۓ تیار ہوتے ہیں ۔

خون چوسنے والا

4

ویسے تو سارے ہی مالک مکان اس کیٹیگری میں فٹ ہوتے ہیں مگر کچھ خاص ایسے ہوتے ہیں جن کا بس نہیں چلتا کہ وہ اپنا پانی ،بجلی اور گیس کا بل بھی کراۓ دار کے کھاتے سے ہی جمع کروائیں ۔ کراۓ دار کو میٹر ریڈنگ اور سب میٹر ریڈنگ میں الجھا کر اپنا بل بھی کراۓ دار کے کھاتے میں ڈال دینے کا ہنر اس مالک مکان کا خصوصی ہنر ہوتا ہے ۔

خوش خوراک والے

3

اس کی ناک بہت تیز ہوتی  ہے اور آپ کے گھر میں پکنے والی ہر چیز کی خوشبو اس تک پہنچ جاتی ہے اور پھر وہ اپنا حصہ لینے کے لۓ کسی نہ کسی بہانے سے آن پہنچتا ہے ۔ کراۓ دار کے لۓ یہ لازمی ہے کہ وہ مالک مکان کو اس کا حصہ خود ہی پہنچا دے ورنہ پورے مہینے اس بات کے طعنے سننیں کو ملیں گے کہ آپ سے اتنا نہ ہوا کہ ہمیں بھی ساتھ شریک کر لیتے ۔

خاص مذہبی لگاؤ رکھنے والے

6

کراۓ دار کو کسی صورت یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ مالک مکان کے علاوہ کسی اور مسلک سے تعلق رکھے ۔اس کو صرف وہی مذہبی سرگرمیاں کرنے کی اجازت ہے جو کہ مالک مکان کے مسلک کی ہیں اس کے علاوہ کی جانے والی ایکٹیوٹیز مالک مکان کی نظر میں ناقابل تلافی جرم ہیں اور ان کے نتیجے میں مکان خالی کرنے کا نوٹس بھی مل سکتا ہے ۔

ان تمام اقسام کو دیکھتے ہوۓ ہم یہ کہنے پر حق بجانب ہیں کہ کراۓ دار کو کسی قسم کی شخصی آزادی حاصل نہیں ہے ۔اور اگر اس کو کسی کے مکان میں کراۓ دار کی حیثیت سے رہنا ہے تو اس کو ان تمام پابندیوں کا خود کا عادی بنانا پڑے گا ورنہ خانہ بدوشوں کی طرح ہر وقت اپنا سامان باندھ کر رکھ لیں ۔

To Top