ملالہ یوسف زئی اور ارجن کپور کی اس تصویر میں ایسا کیا ہے کہ لوگوں نے ملالہ کو بہترین اداکارہ کے خطاب سے نواز دیا

ملالہ یوسف زئی اور ارجن کپور کی اس تصویر میں ایسا کیا ہے کہ لوگوں نے ملالہ کو بہترین اداکارہ کے خطاب سے نواز دیا

ملالہ یوسف زئی جس کو نوبل انعام سے بھی نوازہ جا چکا ہے وہ بہادر لڑکی ہے جس نے پاکستان کا نام بین الاقوامی طور پر نہ صرف روشن کیا بلکہ آنے والے کل اس سے بہت ساری امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں ۔ اور ہاورڈ یونی ورسٹی میں اعلی تلیم حاصل کرتی پاکستان کی اس بہادر بیٹی سے تمام قوم کو امید ہے کہ آنے والے دور میں وہ ملک و ملت کے لیۓ عظیم کارنامے انجام دۓ گی ۔


اس حقیقت سے تو سبھی لوگ واقف ہوں گے کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں امید بھی ہوتی ہے ۔ اور جب امید پوری نہیں ہوتی تو پھر شکایت تو لازمی ہوتی ہے یہی حال پاکستانی قوم کا بھی ہے جو ملالہ سے بہت محبت کرتے ہیں اس سے قطع نظر کہ ملالہ یوسف زئی پاکستان میں نہیں ہے مگر اس کے باوجود پاکستانی یہ امید رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر زیادتی کے خلاف ملالہ ان کی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر آواز اٹھائیں گی ۔

برما میں ہونے والی مسلمانوں کی نسل کشی اور اس کے بعد شام کے اندر ہونے والے بچوں کا قتل عام یہ سارے ایسے معاملات ہیں جس میں پورے مسلم امہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔مگر اس سارے معاملات میں ملالہ یوسف زئی کی خاموشی پاکستانیوں کے لیۓ تکلیف دہ ہے ۔

اسی وجہ سے جب ملالہ یوسف زئی کی تصویر بھارتی اداکار ارجن کپور کے ساتھ سامنے آئی تو اس نے پاکستانیوں کے غم و غصہ  میں شدید اضافہ کر دیا کہ پاکستان کی بیٹی جو کہ نوبل انعام یافتہ بھی ہے پاکستان کے دشمن ملک کے لوگوں کے ساتھ مل کر نہ صرف تصاویر بنوا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر شئیر بھی کر رہی ہے ۔دوسری جانب برما اور شام کے مسلمانوں کے لیۓ اس کے پاس بولنے کو چند جملے تک نہ تھے ۔

ملالہ کی اس تصویر کے انسٹا گرام پر آتے ہی لوگوں نے اپنے جزبات کا اظہار جس طرح ظاہر کیا وہ اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ملالہ کی جانب سے امیدیں پوری نہ ہونے پر لوگوں میں اس کے لیۓ کتنا غم و غصہ پایا جاتا ہے

کچھ کا کہنا تھا کہ ملالہ کو تو پاکستان سے بھاگنے کا بہانہ مل گیا ہمارے ملک کے اصلی ہیرو تو آرمی پبلک کے وہ اسٹوڈنٹ ہیں جو آرمی پبلک کے حملے کا شکار ہونے کے باوجود اپن ہی ملک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں

کچھ لوگوں نے ملالہ کو حقیقی زندگی کی مایہ ناز اداکارہ قرار دیا

کچھ لوگوں نے واضح طور پر اس بات کا گلہ کیا کہ ملالہ نے بین الاقوامی طور پر کشمیر ، روہنگیا اور شام کے مسلمانوں کے لیۓ کبھی بھی آواز نہیں اٹھائl

لوگوں کے اس ردعمل سے یہ واضخ ہوتا ہے کہ پاکستان کے لوگ ملالہ سے اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ملالہ پاکستانی قوم کی شناخت بن کر مسلم امہ کے مسائل کی ترجمانی کرۓ گی اور جب ایسا نہیں ہو سکتا تو وہ لوگ اپنے دلوں کی بھڑاس اس طرح سے نکالتے ہیں

To Top