میجر اسحاق کی شہادت ایک پیغام،ایک امتحان ایک انعام کیوں ہے ؟

میجر اسحاق کی شہادت ایک پیغام،ایک امتحان ایک انعام کیوں ہے ؟

میجر اسحاق جس کے نام کے سامنے شہید لکھنے کے لۓ بہت حوصلے کی ضرورت ہے ۔ جس کی چمکتی آنکھیں اور دلکش مسکراہٹ کسی صورت دل کو یہ ماننے ہی نہیں دے رہے کہ وہ اب ہمارے بیچ نہیں رہا ۔ ڈیرہ اسمعیل خان میں دہشت گردوں کی ایک بزدلانہ کاروائی نے ہمارا یہ لعل ہم سے چھین لیا ہے ۔

خوشاب سے تعلق رکھنے والا دھرتی ماں کا یہ بیٹا میجر اسحاق ڈیرہ اسماعیل خان میں کلاچی کے مقام پر دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر جب وہاں پہنچا تو بزدل دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی ۔ جس کے سبب اس بیٹے نے شہادت کا تاج اپنے سر پر سجا لیا۔ شہید کے لواحقین میں بیوہ اور ایک بیٹی بھی شامل ہے ۔ جس کا نام فاطمہ ہے ۔

فاطمہ کو ابھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ اس کا پیار کرنے والا بابا اس سے اتنا دور چلا گیا ہے کہ اب کبھی واپس نہیں آپاۓ گا ۔ اپنے بابا کے تابوت کے پاس بیٹھے ہوۓ بس وہ ایک ٹک اپنے بابا کے تابوت کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتی رہی ۔ اس کی آنکھیں دیکھ کر میجر اسحاق کی آنکھوں کا خیال آتا ہے۔ جب جب شہید کی بیوہ اپنی بیٹی فاطمہ کی آنکھوں میں دیکھے گی اسے میجر اسحاق کی آنکھیں یاد آئيں گی۔ ویسی ہی روشن اور زندگی سے بھرپور آنکھیں ۔

میجر اسحاق کی بیوہ جس پل اپنے شوہر کے تابوت میں اس کا آخری دیدار کر رہی ہو گی تب بھی انہی آنکھوں کی چمک ڈھونڈتی ہو گی ۔سوچتی ہو گی کہ ابھی کوئی معجزہ ہو گا ۔اور اس کے بہت پاس سے کہیں سے میجر اسحاق اپنی مسکراہٹ لۓ آجائیں گے اپنی بیٹی کو اپنی گود میں بٹھائیں گے اور کہیں گے دیکھو میری بیٹی با لکل میرے جیسی ہے ۔ اس کی آنکھیں میری طرح چمکتی ہیں ۔ اس کے لبوں پر بھی وہی مسکراہٹ ہے جو میرے لبوں پر ہوتی ہے ۔ اس کے بال بھی میرے بالوں کی طرح ہیں ۔

مگر وہ نہیں جانتی کہ اب میجر اسحاق واپس اپنی فاطمہ کو گود میں لینے کے لۓ کبھی نہیں آپائیں گے ۔ انہوں نے جس راہ کا انتخاب کیا اس راہ سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ۔ انہیں تو فرشتوں نے اپنی آغوش میں لے لیا ہو گا  ۔ ان کی اس مسکراہٹ کو جنت میں سجا دیا گیا ہو گا۔ شہید کی بیوہ کو اب اس زندگی کا سفر تنہا ہی کاٹنا ہے ۔

اپنی فاطمہ کے سوالوں کا جواب تنہا ہی دینا ہو گا ۔جب وہ اپنے توتلے لہجے میں پوچھے گی کہ اس کے بابا کو دہشت گردوں نے کیوں مارا ؟ اس کے بابا نے ان دہشت گردوں کا کیا بگاڑا تھا ؟ ان سوالوں کے جواب اب اس نے تنہا ہی دینے ہیں ۔ اپنی اس معصوم بچی کو زندگی کی خار زار راہوں پر ہاتھ تھام کر چلنا سکھانا ہے ۔

زندگی کے اس سفر کو جس کا آغاز اس نے میجر اسحاق کا ہاتھ تھام کر کیا تھا ۔ اب اس سفر کی شام اس معصوم بچی کے سہارے تنہا ہی دیکھنی ہے ۔ وطن کی حفاطت کے لۓ اپنی جان قربان کرنے والے کی بیوہ کی قربانیوں کا قرض شائد یہ قوم کبھی ادا نہ کر پاۓ ۔ان محرومیوں کا ازالہ کرنا بھی اس قوم کے لۓ ممکن نہیں جن کا سامنا ان ماں بیٹی کو کرنا پڑے گا ۔مگر یہ قوم ہمیشہ ان کی شکر گزار رہے گی

To Top