پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بےچینی کا سبب کون؟

پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بےچینی کا سبب کون؟

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

صبح دفتر جانے سے لیکر واپس آنے تک راستے میں کئی مرتبہ لوگ ایک دوسرے سے دست وگریباں دیکھائی دیتے ہیں۔

کبھی سڑک پہ تو کبھی کسی دکان کے سامنے تو کبھی کسی چوراھے پر۔ کہیں  کوئی کار سے نکل کر اپنی دھونس جما رھا ہوتا ھے تو کہیں کو ئی رکشہ والا اپنا غصہ دکھا رھا ہوتا ھے تو کہیں  موٹرسائیکل سوار اپنا رنگ دکھا رھا ہوتا ھے الغرض ھر طبقے کے لوگ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں اپنا غصہ نکال رھے ہوتے ھیں۔

جب کبھی رک کر وجہ جاننے کی کوشششجائے تو پتا چلتا ھے کہ بات بہت معمولی ہوتی ھے اور ایک  دوسرے پہ اپنی فرسٹریشن نکالنے کے لیے دست و گریباں تک بات جا پہنچتی ھے۔اس کی کئی وجوھات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ ہمارے  معاشرے میں بڑھنے والی بےچینی ھے۔لوگ اپنے معمولاتِ زندگی سے خوش نہیں، کہیں اخراجات پورے نہیں ہوتے کہ مہنگاہی نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی تو کہیں فکرِ روزگار نے پریشان کیا ہوا ھے۔ کوئی عدم تحفظ کا شکار ھے تو کہیں کوئی جلد انصاف کا طلبگار ھے۔

اس بڑھتی ہوئی بےچینی کی بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں بڑھتا ہوا معاشی فرق ھے ایک طرف غریب،  غریب تر ہوتا جا رھا ھے تو دوسری طرف امیر امیر تر ہوتا جا رھا ھے۔ غریب سمجھتا ھے کہ امیر میرا حق کھا رھا ھے تو امیر غریب کو کاہل سمجھ کے اگنور کر رھا ھے۔ ایک طبقہ وہ ھے کہ جس کے پاس نہ کھانے  کے وسائل ہیں اور نہ پہننے کے اور دوسرا طبقہ وہ جس کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ قانون و انصاف کسی کے گھر کی لونڈی ھے تو کوئی اپنا سب کچھ قربان کرنے کے باوجود انصاف کی دہلیز سے کوسوں دور ھے۔

بےچینی کا شکار انسان جب کچھ نہیں کر سکتا تو وہ اپنا غصہ کسی نہ کسی طرح نکالتا ھے کہ گٹھن اسے زہنی مریض بنا دیتی ھے۔ قوتِ برداشت ختم ہو جاتی ھےتو اس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پہ لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ اپنی فرسٹریشن دوسروں پہ نکالنے لگتے ہیں۔

بدقسمتی سے برصغیر میں قوتِ برداشت کم ھے کہ ہم کئی سو سال غلام رھے ہیں غلام اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا کہ مالک کی مرضی ہی اس کی مرضی ہوتی ھے اور غلام اپنے مالک کی ھر بات ماننے کا پابند ہوتا ھے۔ ھر جائز و ناجائز کام کو کرنے کا پابند ہوتا ھے جب وہ یہ سب کچھ ناچاہتے ہوئے بھی کر رھا ہوتا ھے تو اس کے اندر بےچینی بڑھ رہی ہوتی ھے تو وہ اپنے مالک کے آگے تو بول نہیں سکتا اسلیے وہ اپنا غصہ دوسرے لوگوں پر اور اپنے گھر والوں پہ نکالتا ھےاور معمولی سے معمولی بات پہ لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتا ھے۔

معاشرے میں بےچینی کو ختم کرنے کے لیے ہمیں سب کے لیے یکساں قانون و انصاف کا نظام قائم کرنا ھو گا۔ امیر، غریب کے فرق کو کم کرنا ہو گا۔ بنیادی سہولیات سب کو برابر فراہم کرنا ہوں گی۔

To Top