ماں بچپن میں ہمارا سہارا اور بڑھاپے میں ہمارے لیۓ بوجھ کیوں ہوتی ہے ؟

ماں بچپن میں ہمارا سہارا اور بڑھاپے میں ہمارے لیۓ بوجھ کیوں ہوتی ہے ؟

ایک ماں دس بچے پال لیتی ہے مگر دس بچے مل کر ایک ماں کو نہیں سنبھال سکتے سچ ہی کسی نے کہا ہے ۔ جیسے جیسے انسان اپنی زندگی کی دوڑ میں اپنی طاقت اور جوانی کے ژعم میں آگے بڑھتا جاتا ہے اسے ہر کمزور چیز بوجھ لگنے لگتی ہے اور سب سے بڑا بوجھ اس کے لۓ اس کے اپنے ماں باپ ہوتے ہیں جنہوں نے اس کو اس قابل بنایا ہوتا ہے کہ وہ آج زندگی کی اس دوڑ میں شامل ہو سکے


میری شادی جب ہوئی تو میرے گھر میں میرے شوہر کے ساتھ ساتھ ان کی ماں اور ایک چھوٹی بہن بھی تھی جس کی شادی میری شادی کے ایک سال بعد ہی ہوگئی تھی اس کے بعد گھر میں میں اور میری ساس ہی رہ گئيں ۔ عجیب سی اولڈ فیشن خاتون تھیں ہر بات پر اللہ اللہ کرتی رہتی تھیں یہ نہ کرو اللہ کو پسند نہیں ایسا نہ کرو اللہ ناراض ہو گا غرض ان کی ہر وقت کی روک ٹوک مجھے بہت زیادہ پریشان کرتی رہتی تھی

میں نے کئی دفعہ اپنے شوہر کی توجہ بھی اس طرف کروائی کہ ہر وقت کی روک ٹوک کے سبب میرا جینا عزاب بنتا جارہا ہے انہوں نے اپنی ماں کو بھی سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ پرانے وقتوں کی خاتون ان کو یہ بات ہی سمجھ نہ آئی کہ آخر چھوٹوں کو کسی بارے میں سمجھانے میں غلط کیا ہے

میرا اور ان کا تضاد وقت کے ساتھ بڑھتا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے اپنے شوہر سے مطالبہ کر دیا کہ وہ یا میں ۔ہم میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں میں ان کے بچوں کی ماں تھی بچوں کو میری ضرورت تھی مجھے چھوڑنے کے بجاۓ انہوں نے ماں کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہم نے انہیں ایک اولڈ ہاؤس میں داخل کروا دیا اور اس طرح میری زندگی میں سکون آگیا

کل رات میرا بھائی میرے گھر آیا اس نے مجھے بتایا کہ اس کی نوکری دوسرے ملک میں لگ گئی ہے اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ وہاں شفٹ ہو رہا ہے مگر مسلہ یہ ہے کہ وہ امی  کو وہاں نہیں لے جا سکتا اس لیۓ اس کی خواہش ہے کہ ماں کو میں  اپنے ساتھ رکھ لوں ۔ اس کا کہنا تھا کہ ماں کا پورا خرچہ وہ مجھے باقاعدگی کے ساتھ بھجوا دیا کرۓ گا

مگر میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اب میں کس منہ سے اپنے شوہر سے یہ کہوں کہ میں اپنی ماں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہوں ۔ کل جس گھر میں میری ساس کے لیۓ جگہ نہیں تھی اب اس گھر میں میں اپنی ماں کے لیۓ جگہ کیسے بناؤں ؟؟

 

To Top