آخر میری ماں کے ناکردہ گناہوں کے عزاب ختم ہو گۓ

آخر میری ماں کے ناکردہ گناہوں کے عزاب ختم ہو گۓ

میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا ۔ میرے والد اپنے ماں باپ کے اکلوتے بیٹے تھے ۔میں اپنے والد کی سب سے بڑی بیٹی تھی ۔ مجھے یہ تو پتہ نہیں کہ میرے پیدا ہونے پر میری دادی کو خوشی ہوئی تھی یا نہیں ۔مگر میرے بعد پیدا ہونے والی ہر بیٹی کی پیدائش پر میں نے ان کو روتے ہی دیکھا تھا ۔

میری چوتھی بہن کی پیدائش پر میری دادی نے اسے گود میں لے کر جن نگاہوں سے دیکھا تھا اس میں شکایت، الزام اور غصہ نہ جانے کیا کیا تھا ۔ میری امی نے شرمندگی سے ایسے سر جھکا لیا تھا جیسے وہ میری اس بہن کو کہیں کوڑے سے اٹھا کر لائی تھیں۔ میری یہ بہن بھی شاید انہی نگاہوں کے سبب غیرت کے باعث اتنی بیمار پڑی کہ اس کی جان کے لالے پڑ گۓ ۔

اس کے علاج کی فکر صرف میری ماں کو تھی ۔ جیسے تیسے علاج کے سبب اس کی آتی جاتی سانسیں تو بچ گئیں ۔مگر وہ تمام باتوں سے آزاد ہو گئی ۔ایک زندہ لاش کی طرح دیکھ تو سب سکتی تھی ۔مگر سوچنے سمجھنے کی فکر سے آزاد ہو چکی تھی ۔ اب امی کے اوپر گھر کی ساری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ایک زندہ لاش کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی آپڑی ۔

زندگي ایک بوجھ کی طرح کٹتی جا رہی تھی ۔ شب و روز سالوں میں بدلتے گۓ اور یہاں تک کے ہم نے جوانی کی حدود میں قدم رکھ دیا ۔ خیراتی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہوۓ ، پرانی کتابوں اور اترن کے ساتھ زنرگی گھسٹتی جا رہی تھی ۔ ایسا نہیں تھا کہ ہمارے گھر میں کسی چیز کی کمی تھی ۔

بس ہماری دادی یہ برداشت نہ کر سکتی تھیں کہ ان کے بیٹے کا سارا لہو ہم جونکوں نما بیٹیاں پی جائیں ۔اسی سبب وہ ہم پر صرف اتنا خرچ کرتی تھیں کہ جس سے ہماری سانس چلتی رہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری اس مفلوج بہن کو لے کر دادی کے کوسنوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا ۔ جس کی پیدائش کے بعد امی اس قابل بھی نہ رہی تھیں کہ ایک اور اولاد پیدا کر کے ابو کے جانشین دے سکتیں ۔

دادی کہا کرتی تھیں کہ ہم لوگ اپنی ماں کے گناہوں کی سزا ہیں ۔ اور یہ چوتھی والی سزا کے بجاۓ عزاب ہے جو کہ میری ماں کو اسی دنیا میں مل رہا ہے ۔ امی میری اس بہن کو لے کر بہت پریشان تھیں یہ اگر اس حالت میں اس بہن کی ماہواری شروع ہو گئی تو وہ کیسے سنبھالیں گی ۔

امی سرکاری ہسپتال بھی میری بہن کو لے کر گئي تھیں کہ اس کے لۓ کوئی دوا لے سکیں ۔ ڈاکٹر نے کہا کہ جب اس کی پہلی ماہواری آجاۓ تو لے آنا آپریشن کر دیں گے تاکہ آئندہ ماہواری نہ آۓ ۔ مگر ایک بار پھر میری اس بہن نے غیرت کا ثبوت دیا اور وہ ماہواری کے آںے سے پہلے مر گئی ۔

اس کے جنازے پر میں نے اپنی ماں کا ایک نیا روپ دیکھا ۔امی نے اس کے جنازے کے اٹھنے پر دادی کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا کہ دیکھ لیں میرے گناہوں کے عزاب ختم ہوگۓ ۔

Parhlo

Parhlo.com is the leading open platform that represents the voice of youth with viral stories and believes in not just promoting Pakistani talent and entertainment but in liberating Pakistani youth and giving rise to young changemakers!

Posts
Parhlo Newsletter
Parhlo Newsletter

You have Successfully Subscribed!

To Top