ماں نے اپنے تین بچوں کا گلا دبا کر مار ڈالاذمہ دار کون؟

ماں نے اپنے تین بچوں کا گلا دبا کر مار ڈالاذمہ دار کون؟

ماں کو اس معاشرے میں بچوں کا سب سے محفوظ ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے ۔اس بات پر سب کا یقین ہے کہ ایک ماں کی ممتا خود تو تکلیف برداشت کر سکتی ہے مگر اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں کسی قسم کی تکلیف نہیں دے سکتی ہے ۔


وہ بھی ایک ماں تھی جس کے جھولی کو اللہ نے تین پھولوں سے بھر رکھا تھا لاہور کے رہائشی علاقے بیدیاں روڈ کے پوش علاقے عسکری فلیٹس کی رہائشی یہ عورت گزشتہ سوا سال سے اپنے شوہر سے طلاق ملنے کے بعد یہاں اپنے تینوں بچوں کے ساتھ رہائش پزیر تھی ۔

تینوں بچے فلیٹ میں مردہ حالت میں پاۓ گۓ جب کہ ان کی ماں بھی اسی فلیٹ میں زخمی حالت میں موجود تھی اس کے فلیٹ میں ایک آدمی کا بھی آنا جانا تھا جس کے بارے میں اس عورت کا ابتدائی بیانات میں کہنا تھا کہ اسی نے اس کے تینوں بچوں کو گلا گھونٹ کر موت کی گھاٹ اتار دیا ہے ۔

مگر مذید تفتیش سے یہ پتہ چلا کہ ان بچوں کو مارنے والا کوئی اور نہیں انہی کی سگی ماں تھی جس نے ان بچوں کو گلا دبا کر مار ڈالا اور پھر خود بھی کلائی کاٹ کر خودکشی کی کوشش کی

پولیس ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ عورت نشے کی عادی تھی ان تمام حالات کو دیکھتے ہوۓ سنگ دل سے سنگ دل شخص بھی سکتے کی حالت میں آگیا ۔ ان بچوں کی معصوم شکلیں جن کا گلا جب ان کی ماں نے دبایا ہو گا وہ کتنا حیران ہوۓ ہوں گے ۔

معاشرے کی سنگ دلی اور ناہمواری کے اس ردعمل پر سب لوگ اس عورت کو ڈائن اور ظالم جیسے القابات سے نواز رہے ہیں جس کو اس کے شوہر نے سوا سال قبل طلاق دے دی تھی ۔ اور بچے بھی اس کے حوالے کر کے بری الزمہ ہو گیا ۔

اس ردعمل میں نفسیاتی دباؤ کے تحت اس نے نشے کی عادت کو اپنا لیا اور جب کسی دوسرے انسان کے ساتھ شادی کر کے نئی زندگی کا فیصلہ کیا تو اسی معاشرے نے اس عورت کو تو اپنانے کا فیصلہ کر لیا مگر کسی دوسرے کے تین بچوں کو پالنے سے انکار کر دیا ۔

ایسے حالات میں یہ تین بچے اس عورت کے پیروں کی زنجیر بن گۓ جن کا سگا باپ ان کو رکھنے کو تیار نہیں تھا ۔ ایسی حالت میں نشے کی عادی ماں جس کی قوت فیصلہ کو اس کے نشے نے ختم کر ڈالا تھا اس کے علاوہ کیا کرتی ۔

ایک ماں کا  بچوں کو مار ڈالنا ایک عبرت آمیز جرم بن گیا مگر جو اس جرم کا سبب بنے وہ اس دنیا میں عزت کے لیبل لگا کر شان سے یہ کہتے گھوم رہے ہیں کہ دیکھا اسی وجہ سے میں نے اس کو طلاق دی تھی ۔ یا پھر اچھا ہی ہوا کہ میں نے اس سے شادی نہیں کی ۔

معاشرے کے اس رویۓ کے سبب ہونے والی اس تہرے قتل کی واردات کی ذمہ دار صرف وہ عورت نہیں ہے بلکہ وہ تمام لوگ بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے اس عورت کے لیۓ بلواسطہ یا بلا واسطہ ایسے حالات پیدا کیۓ کہ اس کو اپنے جگر کے گوشوں کو موت کی گھاٹ اتارنا پڑا

To Top