میری ماں سے مجھے ہمیشہ شکایت ہی رہی مگر اس کے مرنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری ماں سے مجھے ہمیشہ شکایت ہی رہی مگر اس کے مرنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لوگ کہتے ہیں کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے ماں قربانیوں کی مثال ہوتی ہے ماں ایک ٹھنڈی چھاؤں ہوتی ہے ماں زمین پر خدا کا روپ ہوتی ہے مگر میں کیسے بتاؤں لوگوں کو کہ میری ماں میں اس میں سے کوئی خاصیت موجود نہیں ہے ۔

میری ماں نے مجھے اپنی مرضی کے خلاف اس دنیا میں پیدا کیا میری دادی بتاتی ہیں کہ میری پیدائش سے پہلے کئی بار انہوں نے کوشش کی کہ مجھ سے جان چھڑا لیں مگر میں ایک جونک کی طرح ان کی کوکھ سے چمٹا ہوا تھا ۔ان کا خون پیتا جا رہا تھا مگر ان کی جان نہ چھوڑ رہا تھا

میں نے اپنا بچپن اپنی دادی کی گود میں گزارا میری ماں کو اس بات کی فکر ہی نہ ہوتی تھی کہ میں کہاں ہوں میں نے کیا کھایا کیا پیا بس ان کو تو کام کرنے کا جنون تھا ۔ گھر کے کام ختم ہوتے تو وہ سلائی کڑہائی لے کر بیٹھ جاتیں


دن بھر میں یا تو اپنی دادی کے پاس ہوتا یا پھر اپنے ابو کے پاس جو کہ ہر وقت پلنگ پر لیٹے رہتے یا پھر میری ماں کو آوازیں دے دے کر فرمائشیں کرتے رہتے اور میری ماں گھر کے اور کاموں کے ساتھ ساتھ ابا کی فرمائشیں پوری کرتی رہتیں

مجھے لگتا تھا کہ انہیں تو یہ یاد بھی نہ تھا کہ ان کا کوئی بیٹا بھی ہے ایسی ہی تھی میری ماں اپنے آپ میں گم ،خاموش سر جھکاۓ گاۓ کی طرح کام کیۓ جاتی ۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ وہ انسان ہی نہیں ہے میں نے اسے کبھی ہنستے ہوۓ نہ دیکھا تھا ۔

میں نے جب اسکول جانا شروع کیا تو اس کی مصروفیات میں مذید اضافہ ہو گیا ۔ اب اس نے کسی گھر میں نوکری بھی شروع کر دی تھی ۔ میں نے اپنی ماں کو کبھی سوتے نہیں دیکھا تھا میرے جاگنے سے پہلے نہ جانے کب سے وہ جاگ کر کام پورے کر رہی ہوتی تھی ۔ اور رات کب سوتی تھی یہ مجھے معلوم نہ تھا

جیسے جیسے میری کلاسز میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے ماں کی مصروفیات بھی بڑھتی گئیں اب تو میں نے ٹیوشن پر بھی جانا شروع کر دیا تھا میرے ملنے جلنے والے سب لوگ میری ماں کی مثالیں دیتے کہ کس طرح بیک وقت میں وہ ماں اور باپ کی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور مجھے اس بات پر اور نفرت محسوس ہوتی کیوں کہ میرے بابا کہا کرتے تھے کہ اس عورت کو عزت سے گھر میں بیٹھنا پسند نہیں ہے تبھی گھر سے باہر نکل کر میری عزت کو بٹہ لگاتی ہے

میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میری ماں کو میری کوئی پروا ہی نہیں ہے میری ذمہ داری سے جان چھڑانے کے لیۓ اس نے بہانے بنا رکھے ہیں ۔ مگر جیسے جیسے شعور کی منزلیں طے کر رہا تھا کچھ سوال مجھے بے طرح پریشان کر رہے تھے ۔

آخر میرے ابا اور لوگوں کی طرح باہر کیوں نہیں جاتے ؟ وہ پیسے کیوں نہیں لاتے ؟ میری امی کے بٹوۓ سے ہی ہر چیز کے پیسوں کی ادائگی کیوں نہیں ہوتی ؟ کیا میری ماں کچھ غلط کام کرتی ہے جس کی وجہ سے اس کے بٹوۓ میں پیسے ہوتے ہیں ان سب سوالوں کے جواب مجھے الجھا دیا کرتے تھے

اب تو میری دادی کا بھی انتقال ہو گیا تھا میرا واحد سہارا بھی چھٹ گیا تھا اب میں اس دنیا میں پہلے سے بھی تنہا ہو گیا تھا ۔ میں اب یونی ورسٹی پہنچ گیا تھا تعلیمی میدان میں میری حیثیت ہمیشہ مثالی رہی میری فیس ہمیشہ وقت سے پہلے میرے تکیۓ کے نیچے پڑی ہوتی تھی ۔یونی ورسٹی کے آخری سال میری ماں کو دل کا پہلا دورہ پڑا ۔

اس دورے کے بعد وہ بہت کمزور ہو گئ تھی ۔ مجبورا اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا بھی میرے ہی فرائض میں شامل تھا اس کے بستر پر پڑتے ہی مجھے پتہ چلا کہ درحقیقت میری ماں کیا تھی اور اس نے کون کون سی ذمہ داریاں بغیر کچھ بولے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی تھیں ۔

یونی ورسٹی کے آخری سیمسٹر کی فیس کی ادائگی کی آخری تاریخ قریب آتی جا رہی تھی مگر میں ہر روز تکیہ اٹھا کر دیکھتا مگر اس کے نیچے فیس نہ ہوتی ۔اب ماں گھر پر ہی ہوتی تھی اس کی اندر اتنی طاقت نہ ہوتی کہ وہ گھر کے کام بھی کر سکے ۔ بغیر دھلے کپڑوں اور بغیر ناشتے کے آج جب یونی ورسٹی کے لیۓ روانہ ہوا تو ماں اپنے بستر پر پڑی تھی مگر میں اس کو نظر انداز کر کے نکل آیا وہ بھی تو اپنے کاموں پر جاتے ہوۓ مجھے بھی تو ایسے ہی نظر انداز کرتی تھی ۔

میں جب گھر واپس آیا تو میرے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر میں پریشان ہو گیا پتہ چلا کہ اس بیماری کی حالت میں بھی میری ماں کو گھر میں چین نہ تھا گھر سے باہر کہیں گئی وہیں دل کا دورہ پڑا گھر لے کر آۓ مگر گھر میں ہی آخری سانسیں لیں ۔

ماں کی تجہیز و تدفین کے بعد جب رات میں اپنے کمرے میں آیا اور لیٹنے کے لیۓ تکیہ اٹھایا تو اس کے نیچے میری فیس کے پیسے پڑے تھے ۔ تب سے لے کر اب تک میں سکتے کے عالم میں ہوں ۔کیا ماں ایسی ہوتی ہے ؟

To Top