سکھر میں ایک شقی القلب بیٹے نے اسی سالہ ماں کو کچرہ کنڈی میں ڈال دیا

سکھر میں ایک شقی القلب بیٹے نے اسی سالہ ماں کو کچرہ کنڈی میں ڈال دیا

آج تک یہی سنتے آۓ تھے کہ کچھ نا جائز مائیں اپنے بچوں کو کچرے کے ڈھیر کی زینت بنا ڈالتی ہیں جہاں کتے اور بلیاں ان کے جسموں کو بھنبھوڑ بھنبھوڑ کر ان کے ماں باپ کی ناجائز محبت کا جنازہ اٹھاتے ہیں مگر آج تک کسی بچے نے کبھی بھی اپنی جائز ماں کو کچرے کے ڈھیر کی زینت نہ بنایا ہو گا۔ بوڑھی ماں کا رمضان کے مہینے میں کھانا مانگنا بیٹے کو اتنا برا لگا کہ اس نے ماں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں تو ماں تھی میں نے نو ماہ تکلیفیں اٹھا کر انہیں اپنی کوکھ میں سینچا تھا جس پل یہ اس دنیا میں آۓ تو اپنی چھاتیوں سے اپنے خون جگر سے بننے والے خون سے ان کو پالا تھا ۔ زمانے کے گرم و سرد سے بچا کر ان کو اس مقام پر پہنچایا کہ پولیس میں بھرتی ہو گۓ

زندگی کی سخت ترین مشقت اور محنت نے میری ہڈیوں کو کمزور کر ڈالا تھا مگر مجھے اس بات کا اطمینان تھا کہ میرا بیٹا اب مضبوط ہے وہی میرا سہارا بنے گا میں نے اس کی شادی بھی کروا دی تھی ۔ اب میرے گھر کے آنگن میں جب میری بہو کی چوڑیوں کی کھنک اور اس کی ہنسی کی آواز گونجتی تو میں اپنے گھر کی خوشیوں کو دیکھ کر پل پل اس کی نظریں اتارا کرتی تھی

مگر وقت کے ساتھ ساتھ میری ہمت جواب دیتی جا رہی تھی چلنا پھرنا دو بھر ہو تا جا رہا تھا ہاتھوں میں سے جان ختم ہوتی جا رہی تھی کوئي برتن بھی اٹھاتی تو وہ ٹوٹ جاتا تھا جس پر میری بہو مجھ پر بہت شور مچاتی تھی ۔ ٹھیک ہی تو کہتی تھی مری وجہ سے کام بڑھ جاتے تھے اس کے ۔

میں ہر روز نہانے والی بندی اب ہفتوں اس بات کا انتطار کرتی کہ وہ مجھے نہلا دے ۔ کھانے کے لیۓ بھی اس کی ہاتھوں کی طرف دیکھنا پڑتا اس کو یاد آجاتا تو کھانا دے دیتی رونہ بھوکا رہنا پڑتا ۔ اس دن میری بہو کے بہن بھائي آۓ ہوۓ تھے میرا بیٹا بھی ان کے ساتھ ہی مصروف تھا کسی کو میرا وجود یاد ہی نہ آیا جو گھر کے پچھواڑے کی بالکنی میں ڈال دیا گیا تھا ۔

دن بھر کسی نے مجھے کھانے پانی کو پوچھا تک نہیں جب رات کا سناٹا چھا گیا تو میری بھوک میری برداشت سے باہر ہو گئی میں نے بلند آواز میں اپنی بہو کو پکارنا شروع کر دیا مگر لگ رہا تھا کہ سب سو چکےہیں ۔ایک بار میری پکار کے جواب میں میری بہو سوتے میں سے اٹھ کر آئی اور اس نے مجھے کہا کہ سب سو رہے ہیں میں نے کیوں شور مچا رکھا ہے ۔

جب میں نے اسے اپنی بھوک کا بتایا تو اس نے کہا کہ آپ کو تو ہر وقت کھانے کی پڑی رہتی ہے ۔ اب جب صبح جاگوں گی تب کھا لیچیۓ گا ۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئی پانی کا ایک گھونٹ تک نہیں پلایا ۔میری حالت غیر ہوتی جا رہی تھی ۔

اب کی بار میں نے اپنے بیٹے کو پکارنا شروع کر دیا جب بار بار پکارا تو اس بار میرے بیٹے کی آنکھ میری آواز پر کھل گئی وہ میرے پاس نیند سے بھری آنکھیں لیۓ آیا مجھے بہت دکھ ہوا کہ میں نے اپنے بیٹے کی نیند خراب کر دی ۔ میں یک دم خاموش ہو گئي ۔میرا بیٹا آگے بڑھا

جس پل میرے کمزور وجود کو میرے بیٹے نے اپنی آغوش میں لیا میرے دکھتے جسم کو قرار سا آگیا میرا دل تھا کہ میں اپنے بیٹے کے چہرے کو چھو سکوں ۔اسے چوم سکوں کتنے دن بعد وہ میرے اتنے قریب آیا تھا میں نے اپنی کمزور انگلیوں سے اس کے بازو کو تھام رکھا تھا ۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میرا بیٹا اب مجھے پلنگ پر بٹھا دے گا ۔میرے سامنے کھانا رکھے گا مگر وہ تو غصے میں تھا ۔مجھے اٹھاۓ گھر سے باہر نکل گیا اور پھر اس نے مجھے گود سے اتار ڈالا یہ بدبو دار جگہ کون سی تھی

میرے بیٹے نے مجھے یہاں پٹخا اور خود واپس راونہ ہو گیا یہ کوئی کچرہ کنڈی تھی جہاں اس نے مجھے بھی کچرے کی طرح پھینک ڈالا تھا ۔ اس ماں کو پھینک دیا تھا جس نے اس کو نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھا ۔ اس ماں کو پھینک دیا جس نے آج اس کواس قابل بنایا کہ وہ لوگوں میں سر اٹھا کر جی سکے

سکھر کے اس کچرہ کنڈی میں پڑی یہ ماں آج کی ہر اولاد سے یہ سوال کرتی ہے کہ کیا ماں بھی کبھی کچرہ ہو سکتی ہے ؟؟؟

 

 

To Top