کیا کسی ماں کا پہناوا اس کی اولاد کی جنس کا تعین کرتا ہے ؟ حیرت انگیز انکشافات

کیا کسی ماں کا پہناوا اس کی اولاد کی جنس کا تعین کرتا ہے ؟ حیرت انگیز انکشافات

ہندوستان سے تعلق رکھنے والے نباتات کے پروفیسر رجیت کمار کے ایک بیان نے اس وقت تنازعے کی صورت اختیار کر لی جب انہوں نے اپنے طالب علموں کو لیکچر دیتے ہوۓ یہ بتایا کہ وہ تمام خواتین جو جینز پہنتی ہیں یا مردوں جیسے لباس پہنتی ہیں ان کے پیدا ہونے والے بچے مخنس یا ہیجڑے پیدا ہوتے ہیں


یاد رہے پروفیسر صاحب کا تعلق نباتیات کے شعبے سے ہے اور ان کا یہ بیان  ان کے شعبے سے متعلق نہیں ہے پروفیسر رجیت کمار کا مذید بھی یہ کہنا تھا کہ وہ تمام خواتین جو ظاہری طور پر مردوں کے اطوار اپناتی ہیں ان کے بچے اگر ہیجڑے نہ بھی ہوں تو ذہنی طور پر سنگین بیماریوں کا شکار ضرور ہو سکتے ہیں

پروفیسر رجیت کمار کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے شہر کیرالہ جہاں ہیجڑوں کی تعداد چھ لاکھ تک جاپہنچی ہے اس کا بنیادی سبب عورتوں کا مردوں کی طرح کا طرز زندگی اپنانا ہے ان کا مذید یہ بھی کہنا تھا اگر مرد اور عورت اپنی اپنی حدود کا تعین کرتے ہوۓ زندگی گزاریں تو اس کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوں گے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہوں گے

پروفیسر رجیت کمار اس سے پہلے بتھی طالبات کے خلاف اسی قسم کے بیانا ت دے چکے ہیں جس  کے بعد طالبات نے انتظامیہ سے ان کی شکایت کی تھی بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا ان کے اس حالیہ بیان کے بعد حکومتی ارکان کا یہ کہنا ہے کہ پروفیسر رجیت کمار کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں اور امید ہے کہ ان پر دیگر اسکول اور کالجز مین اس قسم کی لیکچر دینے پر پابندی لگا دی جاۓ

 

پروفیسر رجیت کمار کے اس بیان پر کہ عورتیں ہیجڑے پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں سوشل میڈیا کے صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کچھ لوگوں کا اس حوالے سے یہ کہنا تھا کہ اس قسم کی بیان سامنے آنے کے بعد آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ یہ پروفیسر اپنے طالب علموں کو کس قسم کی تعلیم دے رہا تھا

 

سوشل میڈیا کہ کچھ صارفین توان کے اس بیان سے اتنے غضب ناک ہوۓکہ بے ساختہ یہ سوال پوچھ بیٹھے کہ ان جیسے پروفیسر کو ان کی ماں نے کیا پہن کر پیدا کیا تھا

 

سوشل میڈیا کے ایک  صارف نے  نے ان کے اس بیان پر اس پروفیسر کو اس سال کا سب سے بڑا احمق قرار دے دیا

 

جب کہ ایک  صارف کے مطابق تعلیمی ڈگریاں کسی بھی شخص کے حوالے سے اس بات کی ضامن نہیں ہوتی کہ وہ آدمی کامن سینس کا بھی حامل ہو

یاد دہے ماضی میں بھی خواتین کے جینز پہنے پر مصر کے ایک وکیل نبی الوحوش کا کہنا تھا کہ اگر خواتین سڑک پر جینز پہن کر نکلیں تو یہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس لڑکی کو جنسی طور پر ہراس کرے تاکہ وہ ایسے نکلنا چھوڑ دے ورنہ اگر وہ باز نہ آۓ تو اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرنا ہر مرد کا ملی فریضہ ہے

حواتین کے جینز پہننے کو اکثر مرد حضرات کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا رہتا ہے جو خواتین کی شخصی آزادی پر ایک حملہ ہے

To Top