ماہرہ خان اپنے دوستوں کے لیے ڈٹ گئیں، لکس اسٹائل ایوارڈ 2017 کی نامینیشن پر اعتراضات کی لائن لگ گئی

ماہرہ خان اپنے دوستوں کے لیے ڈٹ گئیں، لکس اسٹائل ایوارڈ 2017 کی نامینیشن پر اعتراضات کی لائن لگ گئی

گزشتہ سال پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کے لۓ ایک اچھا سال ثابت ہوا ۔پاکستانی فیشن ڈیزائنرز نے نہ صرف بین الاقوامی معیار کا کام کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے کام کو بین الاقوامی طور پر پزیر ائی بھی ملی۔

اس کے بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری نے بھی ایسا کام کیا جس کے بعد اس بات کی امید پیدا ہو چلی ہے کہ آنے والے وقتوں میں نہ صرف یہ انڈسٹری ترقی کرے گی بلکہ پڑوسی ملک کی فلم انڈسٹری کو ایک اچھا مقابل بھی دے گی ۔اور پاکستانی ڈراموں کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں، اس سال بھی گزشتہ دہائیوں کی طرح وہ پہلے نمبر پر رہے اور شائقین کی توجہ کو اپنی جانب برقرار رکھا ۔

ان سب خدمات کے بعد ہماری میڈیا انڈسٹری بجا طور پر اس بات کی مستحق ہے کہ ان کو سراہا جاۓ اور اچھے کام کرنے والے لوگوں کو ان کے اچھے کاموں اور محنتوں کے صلے میں شہرت کے ساتھ ساتھ ایوارڈز سے بھی نوازا جاۓ تاکہ ان کا کام کرنے کا جذبہ قائم و دائم رہے کیونکہ فنکار بہت حساس لوگ ہوتے ہیں ۔

مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جیسے ہر شعبے میں میرٹ کے بجاۓ اقربا پروری کا رجحان موجود ہے تو شو بز بھی اس سے محفوظ نہیں ۔ ہم ایوارڈ دیتے ہوۓ بھی صلاحیتوں کے بجاۓ اپنے تعلقات کا زیادہ خیال رکھتے ہیں ۔حال ہی میں ہونے والی نگار ایوارڈ کی تقریب اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جس کے بارے میں کئی سیلیبریٹیز نے سوشل میڈیا پر کافی غم و غصے کا اظہار کیا ہے ۔

لکس اسٹا ئل ایوارڈ جو کہ پاکستان کا کافی مشہور ایوارڈ شو ہے اس کی اس سال کی نامینیشن نے تمام میڈیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ ان نامینیشن میں کئی ایسے قابل اور اہل امیدواروں کو نظر انداز کر دیا گیا جس نے لکس ایوارڈ کی شفافیت پر سوال اٹھا دیۓ ہیں۔

ان میں سب سے پہلا نام عدیل حسین کا ہے جنہوں نے فلم دوبارہ پھر سے اور فلم ہو من جہاں میں مرکزی کردار ادا کیا مگر لکس اسٹائل  ایوارڈ کی بہترین اداکار کی کیٹیگریز میں ان کا نام کہیں موجود نہیں ہے ۔ اسی طرح فلم عبداللہ کے حماد شیخ کا کام بھی کسی کو نظر نہ آسکا اس لۓ ان کا نام بھی لکس ایوارڈ کی کیٹیگری میں کہیں موجود نہیں ہے ۔

اس کے بعد بہترین اداکاراوں کی لسٹ پر نظر ڈالیں تو وہاں اداکارہ حریم کا نام فلم دوبارہ پھر سے کے لۓ اور ارمینہ رانا کا نام فلم جاناں کے لۓ کہیں بھی نظر نہیں آۓ گا جب کہ ان دونوں فلموں کا نام بہترین فلموں کی فہرست میں موجود ہے۔

مگر اس میں کلیدی کردار ادا کرنے والی دونوں اداکاراوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کیا یہ جیوری کا عیر منصفانہ فیصلہ نہیں  یا اس کے پیچھے جانب داری کا کوئی سبب ہے؟

اس بارے میں سوشل میڈیا پر اداکارہ مائرہ خان نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ عدیل ، حریم اور ارمینہ کا نام لکس اسٹائل  ایوارڈ کی نامینیشن میں کیوں شامل نہیں کیا گیا ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ عاصم رضا نے بھی اس ایوارڈ کی شفافیت پر ان نامینیشن کے خلاف میڈیا پر آواز اٹھائی ہے ۔

اس کے بعد باری آتی ہے ڈراموں کی جس میں اس سال کا سب سے زیادہ دیکھا اور پسند کۓ جانے والا ڈرامہ خدا اور محبت اور اس میں مرکزی کردار ادا کرنے والے عمران عباس کو نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔اگر اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ ڈرامہ اب تک جاری ہے اس لۓ اس کو نامینیشن کا حصہ نہیں بنایا گیا تو عمران عباس کے ڈرامے تم کون پیا میں بھی عمران عباس کو منتخب نہ کرنے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے ۔

اگر صرف اے آر وائی یا ہم ٹی وی کے ہی ڈراموں اور اداکاروں کو منتخب کیا جا رہا ہے تو پھر دم پخت جو کہ ام پلس کا ڈرامہ تھا اس کا انتخاب کس بنیاد پر ہوا ہے؟

اس کے بعد باری ہے فیشن انڈسٹری کی ڈیزائنر نومی انصاری جو کہ رنگوں کے بادشاہ کے نام سے جانے جاتے ہیں اور حال ہی میں جن کے کام کو سراہتے ہوۓ بی بی سی نے بھی ان کا انٹرویو کیا ہے ان کا نام بھی  لکس اسٹائل ایوارڈ کی نامینیشن لسٹ میں شامل نہیں ہے ۔

اسی طرح اریبہ حبیب جو اس وقت پاکستان کی ٹاپ ماڈل گردانی جاتی ہیں اور تمام بڑے برانڈ کی ماڈلنگ اور فیشن شوز میں ان کی موجودگی لازمی سمجھی جاتی ہے مگر وہ بھی لکس  اسٹائل ایوارڈ کی نامینیشن میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہیں جس پر ماہین خان نے آواز اٹھائی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے ۔

ماہین کریم اور میشا لاکھانی بھی نظر انداز ہونے والے لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں ایک اور عجیب فیصلہ جو اس بار کی نامینیشن میں دیکھنے میں آیا وہ میک اپ کیٹیگری میں ڈپلیکس کی جگہ نبیلہ کا نام تھا نبیلہ کے کام سے انکار نہیں مگر ڈپلیکس کی خدمات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

ہم امید کرتے ہیں کہ جیوری اور جج حضرات عوام کی اس بے چینی کا خاتمہ کریں گے اور درست فیصلوں کے ذریعے لکس ایوارڈ پر لوگوں کے اعتبار کو دوبارہ بحال کریں گے ورنہ اس کا حال بھی نگار ایوارڈ جیسا ہو جاۓ گا ۔

To Top