لبنی چیمہ کون ہے ؟ اس کا حاملہ ہونا سوشل میڈيا کا ٹاپ ٹرینڈ کیسے بن گیا؟

لبنی چیمہ کون ہے ؟ اس کا حاملہ ہونا سوشل میڈيا کا ٹاپ ٹرینڈ کیسے بن گیا؟

عمران خان کی بشری بی بی سے شادی کی خبر دا نیوز کے رپورٹر عمر چیمہ کی جانب سے سب سے پہلے بریک کی گئي اس خبر میں انہوں نے نہ صرف عمران خان کے بشری بی بی کے سات نکاح کے بارے میں بتایا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس نکاح میں موجود گواہوں کے بارے میں بھی بتا دیا تھا ۔جس کی ابتدائی طور پر عمران خان کی جانب سے تردید کی گئی ۔

اس کے بعد باقاعدہ طور پر عمران خان نے عمر چیمہ کے خبر دینے کے دو ہفتوں بعد بشری بی بی کے ساتھ اپنے نکاح کا باضابطہ نکاح کا اعلان کر دیا ۔ جس کے بارے میں کل صبح کی خبروں میں عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بشری بی بی کے ساتھ نکاح اس کی عدت کے دوران ہی کیا ہے جو کہ شرعی طورپر ناجائز ہے ابھی پورے میڈيا تک عمر چیمہ کی اس خبر کی پوری گونچ بھی نہ پہنچی تھی کہ اچانک پورا سوشل میڈیا ایک اور ٹرینڈ میں گرفتار ہو گیا

اور  وہ تھا ہیش ٹیگ لبنی چیمہ پریگننسی اس ٹرینڈ کو شروع کرنے والے نہ جانے کون تھے مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس ٹرینڈ نے ایک طوفان کی صورت اختیار کر لی اور پاکستان کی ٹرینڈ لسٹ میں پہلے نمبر پر آگیا اس ٹرینڈ کی بنیاد ایک پیغام بنا جس میں لبنی چیمہ ، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ عمر چیمہ کی بیٹی ہے اور اس نے اپنے باپ کو یہ پیغام سوشل میڈيا کے ذریعے بھیجا ۔

 

لبنی چیمہ کا کہنا تھا کہ جب میں تین ماہ کی حاملہ تھی تو آپ نے مبھے ابارشن کے لیے کہا اور جب میں نے اس سے انکار کیا تو آپ نے مجھے مارا پیٹا جس پر مجبورا میں گھر سے بھاگ گئي آپ نے تب اس کو بریکنگ نیوز کیوں نہیں بنایا ۔ اس پیغام سے بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ ایک عورت شادی سے قبل حاملہ ہو گئي اور اس عورت کو صحافی عمر چیمہ کی بیٹی ظاہر کیا جا رہا ہے حالانکہ اس بات سے سب واقف ہیں کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے مگر اس کے باوجود اس ٹرینڈ کی حمایت اور مزمت میں اتنے ٹوئٹ آۓ کہ انہوں نے اس کو ٹرینڈ بنا دیا ۔

 

اس ٹوئٹ کے جواب میں عمر چیمہ کا پہلے تو یہ کہنا تھا کہ یہ لوگ سب سمجھتے ہیں کہ سب کی ہی حرام کی اولادیں ہوتی ہیں اور یہ لوگ جھوٹی کہانیاں بنانے کے ماہر ہیں اس کے بعد عمر چیمہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک وارننگ بھی ٹوئٹ کی جس کے مطابق عمران خان کی عدت والی خبر کے بعد ان کو جو دھمکی آمیز فون کالز اور پیغامات آرہے ہیں وہ ان کے خلاف ایف آئی اے کی مدد سے کاروائی کریں گے

اس خبر کے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے الگ الگ ردعمل سامنے آرہا ہے کچھ لوگ اس بات کی مزمت کر رہے ہیں کہ کسی کی بھی ذاتی زندگی اور خصوصا گصر کی عورتوں کو اس طرح نشانہ بنانا کسی صورت جائز نہیں ہے جب کہ کچھ لوگ اس عوالے سے عمر چیمہ پر بھی اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ صحافت کا مطلب اس طرح دوسروں کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں ہوتا جس طرح وہ عمران خان کی ذاتی زندگی کے ساتھ کر رہے ہیں ۔

To Top