کیا آپ جانتے ہیں دنیا کے کچھ اسلامی ممالک میں مردوں کی طرح عورتوں کا بھی ختنہ کیا جاتا ہے

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کے کچھ اسلامی ممالک میں مردوں کی طرح عورتوں کا بھی ختنہ کیا جاتا ہے

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق لڑکیوں کے ختنے یا ایف جی ایم سے مراد وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں لڑکیوں کے جنسی اعضا کے کچھ حصوں کو بلیڈ یا تیز دھار آلے سے کاٹا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ لڑکیوں کے وجائنا کو سوئی دھاگے کی مدد سے سی بھی لیا جاتا ہے تاکہ لڑکیاں شادی سے قبل جنسی فعل سے روکا جا سکے ۔

یہ ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے  اس کے نتیجے میں نہ صرف لڑکیوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے بلکہ بعض حالات میں اس کے سبب موت بھی واقع ہو سکتی ہے ۔اسی سبب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے ۔مگر اس کے باوجود دنیا کے کچھ حصوں میں یہ عمل آج بھی جاری ہے ۔

جن ملکوں میں اس عمل کو قانونی تحفظ حاصل ہے ان میں امریکہ ، بھارت اور افریقہ شامل ہے امریکہ کی ریاست مشی گن کی مشہور ہسپتال ہنری فورڈ میں ایک ڈاکٹر جمانا نگر والا سات سالہ بچیوں کے ساتھ یہ عمل انجام دیتی ہے تفصیلات کے مطابق ان لڑکیوں کو ان کے والدین اپنے رواج کی تکمیل کے لۓ لاۓ تھے جس کے مطابق لڑکیوں کو کم عمری ہی میں اس عمل سے گزارا جاتا ہے تاکہ شادی سے قبل ان کی عصمت و عفت کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے ۔لڑکیوں کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں انہیں شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے

اگرجہ علما دین کے مطابق لڑکیوں کی ختنہ کا یہ عمل اسلام میں ممنوع ہے ۔اس کے شواہد اسلام سے قبل عرب میں ضرور نظر آتے ہیں ۔مگر اسلام کے پھیلنے کے بعد اس بات کے آثار نظر نہیں آتے کہ اس عمل کو جاری رکھا گیا ۔البتہ ہندوستان کے مسلمانوں کے ایک فرقے بوہریوں کی تہزیب اور رواج کے مطابق یہ عمل کم سن بچیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔

کم سن بچیوں کی مائیں یا بڑی بزرگ عورتیں ان لڑکیوں کے جسم کے نازک حصوں کو بلیڈ سے کاٹ دیتی ہیں ۔اور اس عمل کو ان کے رواج کے مطابق لازم قرار دیا جاتا ہے ۔ ان بزرگ خواتین کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ اس تکلیف دہ عمل کا شکار لڑکی جنسی زندگی سے نفرت کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اور اس طرح اس کی پاکیزگی برقرار رہتی ہے ۔

اس کے علاوہ لڑکیوں کی ختنہ کا یہ عمل وسطی افریقہ کے اندر بھی رائج نظر آتا ہے ۔ایتھوپیا کے اندر کچھ یہودی گروہ اس عمل کو مذہبی پابندی کے طور پر انچام دیتے ہیں ۔ماہرین کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ایک سے ڈیڑھ ہزار تک لڑکیاں پوری دنیا میں اس بے رحمانہ رواج کی بھینٹ چڑھتی ہیں ۔

اب اس حوالے سے مختلف این جی اوز کام کر رہی ہیں کہ لڑکیوں کے خلاف اس ظالمانہ فعل کو روکا جاۓ کیوںکہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں پر اس عمل کے یکسر مختلف نتائج رونما ہوتے ہیں ۔

To Top