لڑکیوں کو ماں کی کوکھ میں مار ڈالنا، ایک رواج یا مجبوری

آج گیارہ اکتوبر کو دنیا بھر میں لڑکیوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے اور بدقسمتی سے ہم مشرقی ممالک آج بھی اسی سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ اگر الٹرا ساونڈ کی رپورٹ کے مطابق ہماری کوکھ میں پلنے والا بچہ ایک لڑکی ہے تو اسے پیدا کرنا چاہیۓ یا مار ڈالنا چاہیۓ ۔اس سوچ کا شکار عموما وہی عورتیں ہوتی ہیں جو معاشرے میں دوسرے درجے کی شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہوتی ہیں ۔

یہ خواتین ان حالات میں یہ فراموش کر بیٹھتی ہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح بھی ایک عورت تھیں ، یہ بھول جاتی ہیں کہ بے نظیر بھٹو نے جس وقت پارٹی کی قیادت کا پرچم سنبھالا تھا تو وہ بھی ایک لڑکی ہی تھی ۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ملکوں میں ہوتا ہے جہاں خواتین کو قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کا حق حاصل ہے ۔

آج لڑکیوں کے عالمی دن کے حوالے سے ہم خصوصی طور پر ایسی کچھ لڑکیوں کا ذکر کرنا چاہیں گے جن پر اس قوم کو فخر ہے

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی

مالاکنڈ ڈویژن کی سنگلاخ پہاڑیوں میں جنم لینے والی ملالہ یوسف زئی جہاں کی لڑکیوں کو پیدا ہونے کے بعد بھی باپ کی اولاد کے طور پر گنا نہیں جاتا تھا ایسے علاقے میں پیدا ہونے والی اس بہادر لڑکی نے نہ صرف خود تعلیم کے حصول کا بیڑہ اٹھایا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس نے اس علاقے کی باقی لڑکیوں کی تعلیم کے لۓ بھی ایسے حالات میں آواز اٹھائی جب طالبان لڑکیوں کے اسکولوں کو دھماکوں سے اڑا رہے تھے ۔اس آواز اٹھانے کی سزا کے طور پر طالبان کی جانب سے اس کی جان لینے کی کوشش بھی کی گئی ۔

آج وہی ملالہ ہمارے ملک کی پہلی لڑکی ہے جس کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ۔جس نے اقوام متحدہ میں ملک کی نمائندگی کرتے ہوۓ تقریر کی اور جو آج آکسفورڈ میں زیر تعلیم ہے ۔لڑکیوں کے عالمی دن کے موقعے پر ہم صرف اتنا کہیں گے کہ قوم کو اپنی اس بیٹی پر ناز ہے۔

منیبہ مزاری

منیبہ مزاری پاکستان کے میڈیا کی وہ واحد میزبان ہے جو کہ وہیل چئیر پر نظر آتی ہیں بنیادی طور پر اس بہادر لڑکی کا تعلق رحیم یار خان سے ہے جو کہ 2007 میں گاڑی کے ایک حادثے کے سبب ریڑھ کی ہڈی پر لگنے والی چوٹ کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معزور ہو گئی تھی مگر اس معذوری کو اس نے اپنی کمزوری بنانے کے بجاۓ اپنی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا ۔

دسمبر 2015 میں اقوام متحدہ نے ان کی ان خدمات کے اعتراف میں ان کا انتخاب خواتین کے نمائندے کی صورت میں کیا گيا ۔ان کی جدوجہد آج کی تمام لڑکیوں کے لۓ ایک مثال ہے ۔منیبہ مزاری نے اپنی معذوری کے باوجود نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سوشل ورک میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں

شازیہ پروین

شازیہ پروین جس کا تعلق پنجاب کے دور افتادہ علاقے وہاڑی سے ہے یہ پاکستان کی پہلی فائر فائٹر ہے جس نے 2010 میں ریسکیو 1122 میں صرف پچیس سال کی عمر میں شمولیت اختیار کی

یہ سب لڑکیاں اور ان جیسی بہت ساری لڑکیاں اس وقت اپنے اپنے شعبوں میں کارہاۓ نمایاں انجام دے رہی ہیں اور اسطرح کی سرگرمیوں میں ان کا لڑکی ہونا ان کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بن کر سامنے آیا ہے ۔یہ سب لڑکیاں ہمارے لۓ ایک ہی پیغام دے رہی ہیں کہ لڑکیاں بوجھ نہیں ہوتیں ان کو پیدا ہونے کا حق دیا جاۓ۔

To Top