سات سال سے چودہ سالہ لڑکیوں کو رات کی تاریکی میں نشہ آور ادویات دینے کے بعد ۔۔۔۔۔ کرنے کا انکشاف چالیس سے زیادہ لڑکیاں فریادی

سات سال سے چودہ سالہ لڑکیوں کو رات کی تاریکی میں نشہ آور ادویات دینے کے بعد ۔۔۔۔۔ کرنے کا انکشاف چالیس سے زیادہ لڑکیاں فریادی

پڑوسی ملک بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق لڑکیوں سے زبردستی جنسی زیادتی کے واقعات کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک عورت اپنی عمر کے کسی بھی حصے میں اس زیادتی کا نشانہ بن چکی ہوتی ہے اس حوالے سے کسی خاص گروہ یا علاقے کی قید نہیں ہے ملک بھر کے تمام حصوں کی عورتوں کو ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے

انسانی جسم کے متلاشی بھیڑیوں کے اس دیس میں ان لڑکیوں کی حالت تو اس سے بھی زیادہ بری ہے جو کہ لاوارث ہوتی ہیں جن کے سروں پر کوئی چھت اور جن کو تحقظ دینے والا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا ۔ایسی ہی لاوارث بچیوں کو تحقظ دینے کے لیۓ بھارت کی ایک این جی او سیوا سنکلپ نے بالکا گرھ کے نام سے مظفر پور بہار میں لاوارث لڑکیوں کے لیۓ ایک یتیم خانہ قائم کیا جس کا کرتا دھرتا برجیؤ ٹھاکر نامی جنسی و نفسیاتی بیمار شخص تھا

برجیش ایک بااثر شخص تھا جس کے اپنے ذاتی تین اخبار اور رئیل اسٹیٹ کا بزنس بھی تھا مگر اس فرد نے اس آشرم کی سات سال سے چودہ سال تک کی بچیوں کو پناہ دینے کے بجاۓ اپنی ہوس کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اس کی ہوس کا شکار کچھ لڑکیوں کے بیانات اتنے دلخراش اور سنگین تھے کہ وہ رونگٹھے کھڑے کر دینے والے تھے

اس آشرم میں رہنے والی لڑکیوں کا یہ کہنا تھا کہ ہر روز ڈوبتا سورج ان کے لیۓ اذیت اور خوف کا پیغام لے کر آتا تھا۔برجیش کی بات نہ ماننے کی صورت میں وہ لڑکیوں کو اپنے پاس موجود چھری سے تشدد کا نشانہ بناتا تھا جیسے ہی کمرے میں برجیش داخل ہوتا تھا لڑکیاں خوف سے کانپنے لگتی تھیں انہوں نے اس کا نام ہنٹر والا انکل رکھ رکھا تھا

ایک دس سالہ لڑکی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل نشہ آور دوا دے دی جاتی تھی جس سے وہ بے ہوش ہو حاتی تھی مگر جب اس کو ہوش آتا تو اس کے جسم کے پوشیدہ حصوں میں شدید درد اور زخم ہوتے تھے ان لڑکیوں میں سے ایک کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب اس نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تو اس کو شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تین دن تک بھوکا پیاسا رکھا گیا آخر کام مجھے برجیش سر کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے

لڑکیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو کھانےکے ساتھ نشہ آور ادویات ملا کر کھلا دی جاتی تھیں جس کے بعد رات میں ان کو برجیش کے کمرے میں پہنچا دیا جاتا صبح جاگنے پر وہ بے لباس حالت میں ہوتی تھیں اس کے علاوہ دن کے اوقات میں بھی برجیش کسی بھی لڑکی کو اپنے دفتر میں بٹھا لیتا اور اس کے جسم کے پوشیدہ حصوں پر اس طرح ہاتھ لگاتا کہ وہ زخمی ہو جاتے ان لڑکیوں کو رات بھر برہنہ حالت میں سونے پر مجبور کیا جاتا

ان لڑکیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک لڑکی نے جب ان کی بات ماننے سے انکار کیا تو اس کو اس حد تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھی اس پر اس کی لاش کو رکشہ میں ڈال کر ٹھکانے لگا دیا گیا یہ سارے واقعات انڈیا کے اندر موجود شیلٹر ہوم کے آڈٹ رپورٹ کی تیاری کے دوران سامنے آۓ اس آشرم کے پڑوسیوں کا بھی کہنا ہے کہ اس آشرم سے ہر روز لڑکیوں کی کرب ناک آوازیں سنائی دیتی تھیں مگر برجیش کے با اثر ہونے کے سبب کوئی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکا

بہار کے وزیر اعلی نے اس واقعے کے سامنے آنےکے بعد اس معاملے کی فوری تحقیق کا حکم جاری کر دیا ہے اس کے علاوہ برجیش کے ساتھ ساتھ اس آشرم کے دس اور ملازمین کو بھی حراست میں لے لیا گیاہے اس سارے واقعے کا سب سے درد ناک پہلو یہ ہے کہ چالیس کے قریب ان یتیم لڑکیوں کو بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا مگر ہندوستانی معاشرے میں سے ان معصوم لڑکیوں کے لیۓ کوئی آواز بلند نہیں کی گئی

اس حوالے سے میڈیا نے بھی شدید ترین بے حسی اور خاموشی کا ثبوت پیش کیا ہے اور انہوں نے خاموشی اختیار کر کے اپنے ہم پیشہ برجیش کو ہر طریقے سے بچانے کی کوشش کی ہے ان یتیم بچیوں کے خلاف ہونے والی زیادتی پر کوئی بھی آواز اٹھانے کے لیۓ تیار نہیں ہے نہ کوئي مزہبی تنظیم اور نہ ہی کوئي سیاسی رہنما ان لڑکیوں کو انصاف دلوانے میں سامنے آرہا ہے

 

To Top