اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ ایک لڑکی کی سچی داستان

اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ ایک لڑکی کی سچی داستان

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

میرا تعلق ایک بھرے پرے گھر سے تھا میرے گھر میں میرے امی ابو کے علاوہ دادا دادی ، چچا ،تایا اور ان کا خاندان بھی آباد تھا پرانے وقتوں کا میرے دادا کا بنایا ہوا مکان مضافاتی لاہور کے ایک علاقے میں تھا ۔ تین منزلہ مکان کبھی شاندار ہوا کرتا تھا اب تو وہ ایک بھول بھلیوں کا نقشہ پیش کیا کرتا تھا ۔

دادا اور دادی کی مہربانی کے سبب اس گھر کے بچوں میں کبھی یہ فرق پیدا نہ ہو سکا کہ کون سا بچہ کس کا ہے ہم سب اکٹھے ہی رہتے تھے دادا دادی سب سے نچلی منزل پر رہتے تھے اسی منزل کا ایک کمرہ گھر کی لڑکیوں کا کمرہ کہلایا جاتا اور ایک کمرہ گھر کے لڑکوں کا کمرہ ہوتا ۔

جو بچہ بھی دس سال کی عمر کو پہنچ جاتا اس کا بستر اس کے ماں باپ سے علیحدہ کر کے دادا دادی والے حصے میں منتقل کر دیا جاتا ۔ہم لڑکیوں کے کمرے میں میرے علاوہ میرے تایا کی دو بیٹیاں اور چچا کی ایک بیٹی بھی تھی جب کہ لڑکوں کے کمرے میں صرف میرے تایا اور چچا کے ایک ایک بیٹے ہی ہوتے


ہم سب ایک دوسرے کو بہن بھائيوں ہی کی طرح سمجھتے تھے مگر پچھلے کچھ دنوں سے میں محسوس کر رہی تھی کہ میرے تایا کے بیٹے کے انداز کچھ عجیب سے ہو رہے تھے ۔ میرے قریب سے گزرتے ہوۓ جان بوجھ کر میرے جسم سے وہ اپنا ہاتھ ٹکراتے ہوۓ گزر جاتا یا پھر اپنے کسی بھی کام کے لیۓ وہ مجھے ہی پکارتا خاص طور پر اس وقت جب وہ کمرے میں اکیلا ہوتا ۔

اس دوران اس کے ہاتھ اپنے جسم کے پوشیدہ حصوں پر جس طرح گردش کرتے وہ مجھے عجیب سی کوفت میں مبتلا کر دیتے اور میری کوشش ہوتی کہ کام پورا کرتے ہی جلدی سے اس کمرے سے بھاگ جاؤں شرم اور لحاظ کے سبب میں اس کو کام سے منع بھی نہ کر پاتی ۔ایک رات جب میں رفع حاجت کے ارادے سے صحن میں موجود غسل خانے کی جانب گئی تو اچانک تاریکی میں کسی نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے اپنی جانب کھینچ لیا ۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ سکتی میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے دیوار سے لگا دیا  جب تاریکی میں میری نظریں کچھ دیکھنے کے قابل ہوئيں تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ میرے تایا کا بیٹا تھا اس کے بعد میرے تایا کے بیٹے نے میرے جسم کے نازک حصوں کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ۔

میں اس کے ہاتھوں میں مچل رہی تھی مگر اس کے مضبوط ہاتھوں سے اپنا آپ چھڑانے میں ناکام رہی کچھ دیر تک وہ میرے ساتھ یہ نازیبا حرکات کرتا رہا مگر جیسے ہی کسی کے آنے کی آہٹ ہوئی اس نے مجھے چھوڑ دیا اور ساتھ ہی اشارہ کیا کہ اگر میں نے اس بارے میں کسی کو بتایا تو وہ مجھے بہت مارے گا

میں خوفزدہ ہو گئي اس رات ساری رات جا گتے ہوۓ گزری اس سے اگلی رات میں نے پوری کوشش کی کہ مجھے رفع حاجت کے لیۓ رات میں نہ اٹھنا پڑے اس لیۓ میں نے دن بھر پانی بہت کم پیا ۔اس سے اگلی رات جب سب سو رہے تھے  ایک نامانوس سے احساس سے میری آنکھ کھلی ۔ مجھے لگا کوئی میرے جسم کو عجیب سے انداز سے چھو رہا ہے میں نے دیکھا کہ تایا کا بیٹا میرے کمرے سے نکل رہا تھا ۔

اس رات کے بعد میں نے کمرے کی کنڈی لگا کر سونا شروع کر دیا مگر اس بار اس نے کھڑکی کا راستہ اختیار کیا اور وہاں سے ہاتھ ڈال کر میرے جسم کو چھونے کی کوشش کرتا دادا دادی عمر کے اس حصے میں تھے جب کہ رات کی نیند گولیوں کے سبب ہوتی ہے اس لیے ان کے جاگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔

ہر روز کے اس عمل نے مجھے شدید خوفزدہ کر دیا تھا چودہ سال کی عمر ان تمام معاملات کو سمجھنے کے لیۓ کافی نہیں ہوتی میں ڈر کے مارے کسی کو بھی بتا نہیں سکتی تھی آخر کار میں نے تایا کی بیٹی کو اس سب کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا اس نے سب سننے کے بعد اپنی امی کو اس بارے میں بتایا مگر ان کا کہنا تھا کہ اس کو خود خیال رکھنا چاہیۓ یہ کیوں اس کے پاس جاتی ہے

یہ سلسلہ دو سال تک جاری رہا اس دوران میں نفسیاتی مریض بنتی چلی گئی میری پڑھائي بار بار فیل ہونے کے سبب چھٹ گئي میں ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتی کہ نہ جانے کہاں سے وہ آجاۓ اور میرے ساتھ وہ گھناونا کھیل کھیلنا شروع کر دے ۔اسی دوران میرے ماں باپ نے میری خالہ کے بیٹے کے ساتھ میرا رشتہ طے کر کے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کر دیا ۔شادی کی پہلی رات میرے شوہر نے جب ازدواجی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی تو میں ایک بار پھر خوفزدہ ہو گئی۔ اور میں نے ان کو جھٹک دیا

مگر اللہ کا شکر تھا کہ میرے شوہر ایک سمجھ دار انسان ثابت ہوۓ اور انہوں نے جلد بازی کے بجاۓ میرے اس نفسیاتی مسلے کو نہ صرف سمجھا بلکہ دھیرے دھیرے میرے ذہن سے اس خوف کو بھی رفع کیا ۔ آج جب میری شادی کو تیس سال ہو چکے ہیں میں سوچتی ہوں کہ دنیا میں مجھ جیسی کئي لڑکیاں ہوں گی جو اس خوف کے سبب اپنی ازدواجی زندگی کو برباد کر ڈالتی ہوں گی۔

To Top