معصوم لڑکے سے ایک جنسی درندے بننے تک کے سفر کی سچی داستان

معصوم لڑکے سے ایک جنسی درندے بننے تک کے سفر کی سچی داستان

Disclaimer*: The articles shared under 'Your Voice' section are sent to us by contributors and we neither confirm nor deny the authenticity of any facts stated below. Parhlo will not be liable for any false, inaccurate, inappropriate or incomplete information presented on the website. Read our disclaimer.

پچھلے کچھ دنوں سے مجھے خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ایک نامانوس احساس کے ساتھ رات کو میری آنکھ کھل جاتی تھی ایک بے چینی ،ایک لزت ایک کسک سی میرے جسم کو گھیر لیتی تھی میرے جسم میں ان دیکھی خواہشات کی طلب میری راتوں کو رنگین اور سنگین بنانے لگی تھیں

میں نے جب اپنی حالت کا ذکر پڑوس کے کام کرنے والے لڑکے سے کیا جو عمر میں مجھ سے زیادہ تھا تو اس نے میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا کہ مبارک ہو جانی تو تو جوان ہو گیا ہے ۔جوانی کس کو کہتے ہیں ؟؟ پندرہ سال کے ایک لڑکے کو شاید سمجھ نہ آسکے جوانی کے اس احساس کو سمجھانے کے لیے اس نے مجھے اپنے موبائل کی چند ویڈیوز دکھائیں جن کو دیکھ کر میری بے خواب راتوں کی خلش مذید بڑھ گئی

اب میری طلب میں مذید اضافہ ہوتا گیا مجھے ہر عورت اور لڑکی کے جسم میں جھانکنے میں ایک بے نام سی لذت محسوس ہونے لگی نظر سے چھونے کے بعد میرا دل ان کو ہاتھ سے چھونے کی تکرار کرنے لگا

میری مالکن جنہوں نے مجھے شروع سے گھر کے فرد کی طرح رکھا تھا اب مالکن سے زيادہ ایک عورت نظر آنے لگی کبھی کام کے بہانے جب میرا جسم ان کے جسم کے ساتھ مس ہو جاتا تو ان کے جسم کی گرمی میرے احساسات میں آگ لگا ڈالتی تھی

میری مالکن کی چھوٹی بیٹی جس کی عمر صرف چھ سال تھی وہ اکثر میرے ساتھ کھیلتی تھی ۔مگر اب میں نے اس سے بھی کترانا شروع کر دیا تھا اس بات پر اس نے میری شکایت مالکن سے لگا دی تھی اس پر انہوں نے مجھے بلا کر بہت ڈانٹا تھا

انہوں نے کہا کہ تمھیں اسی کے لیۓ رکھا گیا ہے اس لیۓ وہ جب کہے تم اس کے ساتھ کھیلا کرو منع مت کیا کرو ورنہ میں تمھیں نوکری سے نکال دوں گی ۔نوکری سے نکلنے کا مطلب یہ تھا کہ مجھے دوبارہ سےگاؤں بھیج دیا جاتا جہاں پیٹ بھر کھانا بھی نہیں ملتا تھا

میں اب جب بھی اس سے کھیلتا میری کوشش ہوتی کہ وجہ بے وجہ اس کے جسم کو چھو لوں اس لیۓ میں نے ایسے کھیلوں کو ترجیح دینی شروع کر دی جس سے میں اس کے جسم کو چھو سکتا اس کو پکڑ سکتا اس کو دیر تک اپنی بانہوں میں لے کر بیٹھ سکتا

اس رات میری مالکن کو کسی تقریب میں جانا تھا جس کا انہوں نے صبح ہی بتا دیا تھا انہوں نے کام والی ماسی سے کہہ دیا تھا کہ رات وہ منی کے پاس رکے گی تاکہ منی کو تنہائی محسوس نہ ہو میرے اندر یہ شیطانی خیال پتہ نہیں کہاں سےآگیا تھا کہ آج رات میں اپنی جوانی کو آزمانے کے لیۓ وہ سب کر سکتا ہوں جس کا مظاہرہ اب تک میں صرف موبائل کی ویڈیوز ہی میں دیکھتا رہا تھا

میں نے منی کو پہلے ہی سمجھا دیا تھا کہ رات میں اس کے ساتھ چور سپاہی والا نیا کھیل کھیلوں گا وہ اس بارےمیں کسی کو نہ بتاۓ مالکن کے جانے کے بعد وہ چپکے سے میرے پاس آجاۓ پھر میں اور وہ مل کر یہ نیا کھیل کھیلیں گے

مالکن کے جانے کے بعد میں اپنے کوارٹر میں آگیا اور منی کا انتظار شروع کر دیا میرے تن بدن میں ایک آگ لگی ہوئی تھی مجھے اس وقت منی کے علاوہ کچھ اور سوجھ نہیں رہا تھا انتظار کا ایک ایک پل میرے لیۓ صدیوں برابر تھا اچانک دروازے پر کھٹک ہوئی میں نے دیکھا سامنے منی اپنی گڑیا کو ہاتھ میں لیۓ کھڑی ہے

میں نے جلدی سے اس کو اندر کر کے دروازہ بند کر لیا اس نے مجھ سے پوجھا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ چور سپاہی کا کھیل کھیلیں گے تو چلیں نا میں نے کہا بیٹھو میں ابھی کھیل شروع کرتا ہوں اس کو چارپائی پر بٹھا کر میں اس کے برابر بیٹھ گیا

میری سانسیں تیز ہونے لگیں میری رگ رگ میں سے پسینہ پھوٹ رہا تھا منی نے مجھے دیکھ کر کہا کہ بھائی آپ کو اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے میں نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر بستر پر گرا ڈالا اس نے چیخنے کی کوشش کی

میں نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اس کے بعد میں نے اس کے لباس کو تار تار کر ڈالا مجھ پر ایک وحشت سوار تھی جوانی کے مزے حاصل کرنے کے جنون میں مبتلا ہو کر میں یہ بھول بیٹھا تھا کہ اس عمل کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں

میرا ہاتھ منی کے منہ پر سختی سے دھرا ہوا تھا میں اس کے اوپر سوار اس کو جانوروں کی طرح بھنبھوڑ رہا تھا میں یہ بھول بیٹھا تھا کہ وہ ننھی بچی اب ہاتھ پیر چلانا چھوڑ چکی ہے جب اس طوفان سے باہر نکلا تو میری چارپائی پر منی کے بجاۓ اس کی لاش موجود تھی

میں ایک دم ہوش میں آگیا مگر اب اس ہوش میں آنے سے کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔پہلے تو میں نے کوشش کی کہ کسی طرح منی کی لاش کو گھر سےباہر کہیں ڈال دوں مگر دروازے پر چوکیدار تھا ایسا کرنا ممکن نہ تھا ۔میں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور پچھلی دیوار پھلانگ کر گھر سے باہر کود گیا

اس کے بعد میں نے دوڑ لگا دی راستے میں جو پہلی بس نظر آئی اس پر بیٹھا اور ان جانی منزلوں کی جانب روانہ ہو گیا پندرہ دن تک ایسے ہی ہر روز نئی جگہ نئی منزل کی جانب بڑھتا رہا مگر آخر میں پولیس نے میرے موبائل فون کے ذریعے مجھے ڈھونڈ نکالا

اب جیل کی کال کوٹھڑی میں قید میں اپنی اس جوانی کا ہرجانہ بھگت رہا ہوں جس کو ثابت کرنے کے لیۓ میں نے یہ سب کیا مجھے آج بھی اس بات کا احساس نہیں کہ کیا غلط تھا اور کیا صحیح ۔مگر بس دکھ اس بات کا ہے کہ میری وجہ سے منی اب اس دنیا میں نہیں رہی

To Top