کیاچکن گونیا جان لیوا بیماری ہے؟

کیاچکن گونیا جان لیوا بیماری ہے؟

کراچی میں سڑتے ہوۓ کچرے کے ڈھیر اور انتظامیہ کی نااہلی نے پاکستان کے اس بڑے میٹرو پولیٹن کے شہریوں کو چکن گونیا جیسی بیماری سے دوچار کر دیا ہے۔ ہر جانب ایک خوف کی فضا ہے شہری عام بخار کو بھی چکن گونیا ہی سمجھ رہے ہیں اور چکن گونیا کے بارے میں لاعلمی کے سبب موت کے خدشے سے دوچار ہیں ۔سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لینی چاہۓ کہ یہ بیماری جان لیوا نہیں ہے ۔

چکن گونیا کے اسباب

1

جیسا کہ شروع میں ہی بتایا گیا ہے کہ اس بیماری کا سبب گند کچرا ہے جو کہ مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے اور پھر ان مچھروں کے گاٹنے کے سبب ہی ڈینگی بخار کی طرح ہی یہ پھیلتا ہے ۔ یہ ایک وا‎ئرل بیماری ہے جس کی کوئی ویکسین مارکیٹ میں اب تک دستیاب نہیں ہے ۔ یہ بیماری ہر مچھر کے کاٹنے سے نہیں ہوتی اس بیماری کا سبب صرف وہی مچھر بن سکتا ہے جو اس بیماری کا کیرئر ہوتا ہے۔

چکن گونیا کی علامات

00

Source: YOUNGSTERS HUB

 

اس بیماری کی علامات مچھر کے کاٹنے کے فوری بعد ظاہر نہیں ہوتی بلکہ 3 سے 7 دن کے عرصے میں ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ اس کی سب سے پہلی اور واضح علامت تیز بخار ہے جو 102 سے 104 تک ہو سکتا ہے ۔ بخار کے ساتھ ساتھ جوڑوں میں شدید درد اور سوزش انتہائي تکلیف دہ علامت ہے اور اس کے سبب مریض چلنے پھرنے کی طاقت کھو بیٹھتا ہے جو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے مریض مفلوج ہو گیا ہے مگر یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔

اس کے علوہ دیگر علامات میں پٹھوں میں درد، خارش ، متلی اور سر درد بھی شامل ہیں ۔یہ جان لیوا بیماری نہیں ہے مگر نوزائیدہ بچوں اور بزرگ افراد میں اس کی شدت معذوری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

چکن گونیا کا علاج

4

اس بیماری کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا اور نہ ہی اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین تیار کی جا سکی ہے ۔ اس کے مریض کو ذیادہ سے ذیادہ آرام کرنا چاہیئے۔

اس کے علاوہ مائع چیزوں کا استعمال اپنی غذا میں ذیادہ سے ذیادہ کرنا چاہیئے ۔ درد اور بخار سے افاقہ کے لۓ پیراسیٹامول کا استعمال کریں البتہ اسپریین کے استعمال سے اجتناب برتنا چاہیئے کیوںکہ اس بیماری کی علامات ڈینگی بخار سے بھی ملتی ہیں جس میں اسپرین کا استعمال خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔

اس بات کی خاص طور پر احتیاط کرنی چاہئے کہ مریض کو دوبارہ مچھر نہ کاٹے کیونکہ مریض کو کاٹنے والا مچھر دوسرے لوگوں میں بیماری کی منتقلی کا سبب بن سکتا ہے۔

To Top