کیا آپ کی زندگی میں بھی ایسے دوست پاۓ جاتے ہیں؟

کیا آپ کی زندگی میں بھی ایسے دوست پاۓ جاتے ہیں؟

انسانی زندگی کا جب آغاز ہوتا ہے تو وہ پیدا ہوتے ساتھ ہی بہت سے رشتوں سے جڑ جاتا ہے۔ ماں باپ ، بہن بھائی ، نانی نانا ، دادی دادا غرض ہر رشتہ محبت لٹانے کے لۓ بے تاب ہوتا ہے پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ جب وہ عمر کے ادوار گزارتا جاتا ہے تو پھر زندگی اس کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ کے لۓ اپنے من پسند ساتھی یعنی دوست کا انتخاب خود کرے ۔

دوست کی تعریف تو بڑے بڑے عالم آج تک نہ کر پاۓ بس اتنا سمجھ لیں کہ جو اپنی تمام اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ دل کے بہت پاس ہو اسے دوست کہتے ہیں ۔ویسے تو انسان دوستوں کو کبھی بھی نہیں بھلا سکتا مگر یہاں خاص طور پر کچھ دوستوں کا ذکر ہے جن کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔

ماں باپ کا جاسوس دوست

3

دوست کی اس قسم کے سبب بچپن اور خاص طور پر جوانی میں بہت مار کھائی ہوتی ہے۔ ویسے تو یہ دوست ہر شرارت، سگریٹ کے پہلے کش میں گرل فرینڈ کو خط لکھنے میں ساتھ شریک ہوتا تھا مگر بعد میں چھپ کر ساری روداد امی کو سنا دیتا تھا جس کے نتیجے میں چار چوٹ کی مار پڑتی اورہم  یہی سمجھتے رہتے کہ امی کے فرشتے ان کو سب بتا دیتے ہیں ۔

یہ راز تو امی نے اب جا کے کھولا مگر کیا فائدہ ؟ آج تو وہ دوست پتا نہیں کہاں کھو گیا ہے

پہلی ڈیٹ ارینج کر کے دینے والا دوست

2

جوانی ہو اور محبت نہ ہو ایسا تو ممکن نہیں ،اور محبت ہو اور ملاقات نہ ہو اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں اور ہمارے اس دکھ کا احساس جب ہمارے دوست کو ہوا تو اس نے ہماری خاطر ہر خطرہ مول لے کر ہماری پہلی ڈیٹ ارینج کروائی ۔

یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ اس ڈیٹ کے دوران ہم لڑکی سے ذیادہ شرماتے رہے۔

امتحان میں پاس کروانے والا دوست

5

امتحانات کے پرچے میں ہمیشہ وہی سوال کیوں آتے ہیں جو ہم نے یاد نہیں کۓ ہوتے اس سوال کا جواب آج تک ہمیں نہیں مل سکا۔ امتحانی پرچہ دیکھتے ہی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانا ہماری فطرت کا حصہ رہا تھا مگر بھلا ہو ہمارے اس دوست کا اس نے ہمیں مشکل کی گھڑی میں کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔

اس کے کندھے پر سے جھانک جھانک کر پورا نہیں تو کم از کم اتنا پرچہ ضرور حل کر لیا کرتے تھے کہ پاس ہو سکیں اور ابو کے ڈنڈے سے بچ پائيں اس کے بدلے میں پورے ایک مہینے کی پاکٹ منی کی قربانی ذیادہ مہنگی نہیں لگتی تھی

جگری دوست

1

 

ہم نوالہ ،ہم پیالہ کا لفظ ایسے ہی دوست کے لۓ آتا ہے ہمارے حصے کی مار کھا کھا کر اس کا جسم کندن بن چکا ہوتا ہے پھر بھی ہر شرارت میں ہم سے آگے ہوتا تھا راز دار اتنا کہ کبھی کسی کو نہیں بتایا کہ پڑوسی کی گھنٹی اس نے نہیں میں نے بجائی  تھی الٹا اپنی شرٹ مجھے پہنا کہ سارا الزام خود لے لیا کرتا تھا ۔ اس کے پیسے میرے پیسے اس کی کتاب میری کتاب غرض ایک روح دو جسم والی مثل صادق آتی تھی

To Top