کیا آپکی امی بھی آپ پر یہ تمام سردی بچاؤ ٹوٹکے آزماتی ہیں؟

کیا آپکی امی بھی آپ پر یہ تمام سردی بچاؤ ٹوٹکے آزماتی ہیں؟

سردی کا موسم اپنے ساتھ نزلہ زکام ،کھانسی بخار لے کر آتا ہے اور پاکستانی ماں جن کو اپنی اولاد کی فکر دنیا کے ہر خطہ زمیں پر رہنے والی ماں سے ذیادہ ہوتی ہے ، اس موسم میں اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے ذیادہ ہی حساس ہو جاتی ہیں ۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ اپنے چوزوں (بچوں) کو اپنے پروں تلے سے ایک پل کے لۓ بھی نکلنے نہ دے ۔

سردیوں میں ان کا پسندیدہ جملہ یہی ہوتا ہے کہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو ورنہ سردی لگ جاۓ گی ۔اور اگر ان کی بات نہ مانی جاۓ تو وہ بلیک میلنگ یا اپنی محبت کا واسطہ دے کر بات منوا ہی لیتی ہیں ۔اپنی اس فکر اور محبت کا اظہار وہ ان طریقوں سے کرتی نظر آتی ہیں.

ٹھنڈ لگ جائیگی، سویٹر پہن لو

c1

اس موسم میں مائیں اپنے بچوں کو جو کپڑے پہناتی ہیں ان کی تفصیل کچھ یوں ہوتی ہے ۔نیچے بنیان پہنو ، اس کے اوپر موٹی والی بنیان پہنو اس کے اوپر پورے بازؤوں والی بنیان پہنو، اس کے اوپر آدھے بازوں والا سوئٹر اس کے اوپر کپڑے پھر سوئٹر اور پھر جیکٹ۔

یہی حساب پاجامے کے ساتھ بھی ہوتا ہے ہلکا پاجاما ، آدھا پاجاما بھاری پاجاما، موزموں والا پاجاما وغیرہ وغیرہ ۔ پھر انواع اقسام کی ٹوپیاں بھی اسی طرح پہنائی جاتی ہیں ۔

ہر تکلیف کا سبب ٹوپی نہ پہننا ہوتا ہے

raw-2

دوست کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تو چوٹ آگئی یقینا درد کی وجہ امی کی نظر میں ٹوپی نہ پہننا ہو گی ۔ باہر سے کچھ کھا لیا پیٹ خراب ہو گیا ٹوپی نہیں پہنی تھی ہوا لگ گئی ہے ۔ امی میں امتحان میں فیل ہو گیا ٹوپی نہیں پہنی تھی تبھی یاد کیا ہوا سردی کی وجہ سے سب نکل گیا ہزار بار کہا ہے ٹوپی پہن کر جایا کرو ۔ ٹوپی نہ ہو گئی عمروعیار کی طلسماتی ٹوپی ہو گئی جس میں ہر درد کا علاج ہے ۔

ہر درد کا علاج کینو اور گاجر ہوتے ہیں

c2

کینو اور گاجر اس موسم کے خاص تحفے ہیں مگر یہ تحفے نہیں بلکہ سزا بن جاتے ہیں ۔ ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک ان کی شکل دیکھ دیکھ کر انسان خود کو بھی کبھی گاجر اور کبھی کینو سمجھنے لگتا ہے ۔ کھانسی آرہی ہے کینو کھاؤ ٹھیک ہو جاۓ گی ۔سر میں درد ہے یقینا نظر کمزور ہو رہی ہے گاجر کھاؤ جلد پھٹ رہی ہے کینو کے چھلکے لگاؤ ۔ غرض ہر ہر بات کا علاج ا ن ہی میں پوشیدہ ہے

ڈرائی فروٹ ہر پاکٹ منی کا بدل ہوتا ہے

03

گھر سے نکلتے ہوۓ جیبوں کو ان سے بھر دیا جاتا ہے اور جب پاکٹ منی کا تقاضا کیا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ یہ کھاؤ صحت کے لۓ بہترین ہے ۔ بھوک لگے تو یہی کھاؤ ۔ اور باہر سے کچھ لینے کا دل چاہے تو وہ مت کھاؤ ورنہ سردی لگ جاۓ گی۔

باہر دھوپ میں بیٹھو

tumblr_myb3jiknc11s11i8uo5_250

بھوک نہیں لگ رہی ، باہر دھوپ میں بیٹھو تو لگے گی نا ، سردیوں میں ماؤں کو ہم بھیگے ہوۓ چوہے لگتے ہیں جن کو سکھانے کے لۓ دھوپ انتہائی ضروری ہوتی ہے ۔اسی وجہ سے دن کے چھ سے سات گھنٹے ہمارا دھوپ لگوانا انتہائی ضروری ہوتا ہے ورنہ ہمیں سردی لگ جاۓ گی ۔

یخنی یا سوپ پینا لازمی ہوتا ہے

04

 

ماں کے پیار کا ایک اور رنگ سردی میں یخنی یا سوپ کی صورت میں سامنے آتا ہے ان کے نزدیک چاۓ اور کافی ہمیں صحت مند کرنے کے بجاۓ اور کمزور اور لاغر کر دے گا جب کہ یخنی ،سوپ اور گرم دودھ سردی اور ان سے ہونے والی تکالیف کا خاتمہ کرتا ہے ۔

ماں کی محبت کسی موسم کی محتاج نہیں ہوتی یہ ہمیشہ غیر مشروط طور پر ہمارے ساتھ رہتی ہے اللہ ہماری ماؤں کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے

To Top