کچھ تو فکر کرو ہماری - Parhlo

کچھ تو فکر کرو ہماری

جنت کی کلیوں کو شیطان مسل رہے ہیں
ہم محو نالہ جرس احساس زیاں رہے ہیں
کچھ تو فکر کرو ہماری
جنت بھی ہمیں تم نے پکارا تھا
ہمیں شہ رگ پھر کس نے پکارا تھا
آج مدد کے واسطے ہم تمھارے پاس آئے ہیں
نقارخانے میں طوطی کی آواز سنانے آئے ہیں
حوا کی بیٹی آج بے آبرو ھو چلی
دیکھو بربریت کی ایسی لہر چلی
اٹھ کہ پیمانہ صبر لبریز ھوا چاہتا ہے
اٹھ کہ فلک پھٹا جاتا ہے زمیں بوس ہوا چاہتا ہے
دیکھ کہ ایک قیامت برپا ہے
یہ آہ و زاریاں یہ ہولناکیاں

To Top