کوہستان ویڈیو اسکینڈل: ہائی کورٹ نے راز فاش کردیا

کوہستان ویڈیو اسکینڈل: ہائی کورٹ نے راز فاش کردیا

The Mystery Of The Missing Kohistani Girls Has Taken Another Twist - Parhlo.com

کوہستان پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا ایک جنوبی ضلع ہے، یہاں کے رسم و رواج بھی یہاں کی زندگی کی طرح سخت ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی نظر میں ان کی روایات اور رسوم کا بت ان کی جانوں سے ذیادہ قیمتی ہے اور جانیں اگر دوسرے درجے کی شہری یعنی لڑکیوں کی ہوں تو اس کو لینا تو اور آسان ہے۔

کوہستان کی ان پانچ  لڑکیوں کا جرم کم تونہ تھا رقص کرتے ہوۓ لڑکوں کو دیکھ کر تالی بجانا کوہستان کے قانون کے مطابق ان کی غیرت کا قتل تھا اور غیرت کے قتل کی سزا اتنی سخت تو ہونی چاہیئے کہ آئندہ کوئی لڑکی اس غیرت کی جنازہ نہ نکال سکے سزا کے مستحق تو وہ لڑکے بھی ٹہرے جنہوں نے لڑکیوں کو اپنے رقص سے اتنا متاثر کیا کہ وہ تالیاں بجا بیٹھیں۔

1

افضل کوہستانی بھی تو اسی کوہستان کا بیٹاہے جس کے تین بھائی رقص کرنے کے جرم میں مار ڈالے گۓ اور اس کی جان شايد اس لۓ اب تک بچی ہوئی ہے کہ اس نے لاقانونیت کے اس بازار میں قانون کا کمزور سا ہاتھ تھام رکھا ہے جو کسی وقت بھی چھٹ سکتا ہے ۔  اس کا قصور بھی تو بہت بڑا ہے جو کوہستان کا بیٹا ہوتے ہوۓ بھی پاکستان کی عدالت سے انصاف مانگنے نکل پڑا ہے جو پچھلے چار سالوں میں یہ ہی قیصلہ نہیں کر پائی کہ آیا لڑکیوں کو قتل بھی کیا گيا ہے یا نہیں ؟

اسے تو چاہیئے تھا کہ اسی جرگے میں جا کر اپنے بھائیوں کے خون بہا کا مطالبہ کرتا مگر کیسے کرتا ؟ غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کا تو خون بہا بھی نہیں ملتا، تبھی تو بے چارہ انصاف کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے پے در پے بننے والے کمیشن اور ان کے قبائلی قوانین سے ڈرے ہوۓ جج اور ڈی پی او یہی فیصلہ دیں گے کہ وہ لڑکیاں زندہ ہیں اور ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا ۔فنگر پرنٹ کے ذریعے شناخت کی ایک امید تھی جس کو ایک معصوم لڑکی کے دونوں انگوٹھے جلا کر ختم کر دی گئی

03

Source: Rights

 

انصاف میں تاخیر درحقیقت انصاف کی موت ہوتی ہے۔ قندیل بلوچ کے قتل کے بعد غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے خلاف پاس کۓ جانے والا بل انصاف کی ضمانت نہیں بن پایا۔ اس بل کے باوجود ابھی سفر بہت طویل ہے کوہستان سانحہ اور اس جیسے بہت سے واقعات کی شفاف تحقیق کے لۓ یہ ضروری ہے کہ قانون کے ہاتھ مضبوط کيے جائیں۔ اس خوف کی فضا کا خاتمہ کیا جاۓ جو ظالموں نے اپنے تحفظ کے لۓ پھیلا رکھی ہے ۔

مولانا دلدار احمد جن کا تعلق جے یو آئی (ف) سے ہے یہ بیان دے چکے ہیں کہ ان لڑکیوں کو مارا جا چکا ہے اور ان کی لاشیں دور افتادہ علاقے میں دفن کی جا چکی ہیں، اگر ان کو ہیلی کاپٹر فراہم کیا جاۓ تو وہ اس جگہ کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان سے عدالت رابطہ نہیں کر رہی؟

07

Source: Jhang Tv

علاقہ ایم پی اے حمد اللہ صاحب نے مولانا دلدار صاحب کو علاقے کے امن اور سکون کی خاطر چپ رہنے کا مشورہ کیوں دیا؟ شناخت کے لۓ پیش کی جانے والی لڑکی کے انگوٹھے کیوں جلے ہوۓ تھے؟ یہ ساری باتیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سانحہ ہو چکا ہے اب عدالت کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوۓ مجرموں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیئے۔

To Top