کوہاٹ میں میڈیکل کی اسٹوڈنٹ کی قتل کی ایسی وجہ سامنے آگئی جس نے سب کو حیران کر دیا

کوہاٹ میں میڈیکل کی اسٹوڈنٹ کی قتل کی ایسی وجہ سامنے آگئی جس نے سب کو حیران کر دیا

پاکستان کے اندر قبائلی علاقوں کے بارے میں یہ تاثر بہت زیادہ پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی لڑکیوں کوتعلیم نہیں دلواتے اور قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کو وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہوتے جو کہ ان کا حق ہے جس میں سرفہرست تعلیم کا حق ہے ۔مگر اب گزرتے ہوۓ وقت کے ساتھ یہ بات غلط ثابت ہوتی جا رہی ہے ۔

قبائلی علاقوں کی لڑکیاں اب نہ صرف تعلیم حاصل کر رہی ہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ پروفیشنل تعلیم بھی حاصل کر کے ڈاکٹر انجینئیر اور دیگر میدانوں میں بھی تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی ہیں ۔مگر اب بھی اس علاقے میں کچھ لوگ موجود ہیں جو کہ پتھروں کے دور سے تعلق رکھتے ہیں ۔

و اپنے آپ کو بدلنے کے لیۓ قطعی طور پر تیار نہیں ہیں اور ان کے نزدیک وہ تمام لڑکیاں جو تعلیمی میدان میں ان سے ےآگے بڑھ رہی ہیں ان کے لیۓ ایک چیلنج کی طرح ہیں اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ان لڑکیوں کو اور ان جیسی دوسری لڑکیوں کو ڈرا دھمکا کر دوبارہ اس بات پر مجبور کریں کہ وہ ایک بار پھر گھروں میں بیٹھ کر ان سے اپنے حقوق کی بھیک مانگیں ۔

ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ ہفتے کوہاٹ میں پیش آیا جب مجاہد آفریدی نامی ایک لڑکے نے ایبٹ آباد میڈیکل کالج کی تھرڈ ائیر کی طالبہ عاصمہ کے رشتے کی درخواست کی جس پر عاصمہ کے گھر والوں کے جانب سے انکار کے بعد اس نے ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور جب عاصمہ کالج سے چھٹیوں پر اپنے گھر آئی اور اپنی بھابھی کے ساتھ کسی کام سے رکشے پر گھر سے باہر نکلی تو مجاہد آفریدی نے گھر کے باہر اس کو گولیاں مار دیں ۔

عاصمہ کو تین گولیاں لگیں ایک دن تک ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد اس نے موت کو گلے لگا لیا مگر مرنے سے قبل اپنے بھائی کو اس نے اپنے قاتل کا نام بتا دیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے ۔مگر چونکہ مجاہد آفریدی کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے اور اس کا چچا پاکستان تحریک انصاف کوہاٹ کے ضلعی صدر ہیں ۔

اسی سبب اب تک مقدمہ درج ہونے کے باوجود کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے ۔ عاصمہ کے گھر والوں میں اس حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے یاد رہے گوشتہ سال فروری میں کوہاٹ ہی میں حنا شاہنواز نامی ایک اور تعلیم یافتہ لڑکی کو بھی اس کے کزن کی جانب سے غیرت کے نام پر ہلاک کردیا گیا تھا ۔

اس قسم کے واقعات ان لڑکیوں کی مشکلات میں اضافہ کر ہے ہیں جو قبائلی علاقوں میں انتہائی نامساعد حالات میں نہ صرف اعلی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیۓ بھی تعلیم کے دروازے کھول رہی ہیں

To Top