کس سے فریاد کروں، کس سے مسیحائی چاہوں

کس سے فریاد کروں، کس سے مسیحائی چاہوں

وہ سبق یاد کر رہا تھا ۔ زور زور سے سبق دہراتے ہوۓ وقت کا خیال نہیں رہا ۔ اس کے سامنے یہی شوق تھا کہ وہ جلد از جلد قرآن حفظ کر لے ۔ وہ ایسا ہی تھا پڑھنے کا شوقین ۔ اس شوق کے پیچھے نہ تو اس کو کھانے کا ہوش رہتا تھا اور نہ وقت کا احساس ۔ اس کے استاد جی نے اسے پکارا تو اسے ہوش آیا کہ اس کے تمام ساتھی چھٹی کر کے جا چکے ہیں ۔

استاد جی نے اسے کہا کہ وہ ان کے کمرے میں آکر سبق پڑھ لے ۔ استاد جی پلنگ پر لیٹے ہوۓ تھے ۔ انہوں نے اسے پکارا اور کہا کہ ان کے پیر دبا دے ۔ وہ پلنگ پر ان کے پیروں کے پاس بیٹھ گیا ۔اچانک اس کو اندازہ ہوا کہ استاد جی اس کے بازو کو پکڑ کر اپنی جانب کھینچ رہے ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا ہاتھ اس کی پنڈلی پر رکھ دیا ۔ ان کا ہاتھ اس کی ٹانگوں کے درمیان گردش کر رہا تھا ۔

اس نے ان کے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کی تو استاد جی اٹھ کے بیٹھ گۓ اور انہوں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر آواز نکالنے سے منع کر دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے اٹھ کر کمرے کی کنڈی بند کر دی ۔ انہوں نے اس کو زبردستی بستر پر گرا کر اس کے کپڑے اتارنے شروع کر دیۓ۔ اس نے چلانا چاہا تو استاد جی نے اس کے منہ پر اسی کی اتاری ہوئی قمیض ڈال دی ۔

وہ سخت اذیت میں تھا۔ درد کے سبب اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گۓ تھے ۔ اس کے بعد استاد جی نے اس کے منہ پر سے کپڑا ہٹا کر اس کو کپڑے پہننے کا اشارہ کیا۔ اس کے بعد اس کو کہا کہ اگر کسی کو بتایا تو بہت برا ہو گا۔ یہ کہہ کر استاد جی نے اس کو کمرے سے باہر دھکیل دیا ۔

وہ روتا ہوا گھر آيا تو اس کی ماں پہلے ہی گھر کا دروازہ تھامے اس کی راہ دیکھ رہی تھی۔ اس کی بیوہ ماں کا بھی اس کے علاوہ اس دنیا میں کوئی سہارہ نہ تھا ۔ اس کی ماں نے اس کو جب اس حالت میں آتے دیکھا تو وہ ننگے سر اس کی جانب بھاگی۔

اس نے ماں کی آغوش میں آتے ہی روتے روتے سب بتا دیا ۔ دس سال کے بچے کے لۓ یہ ایک بہت بڑا حادثہ تھا۔ اس کی معصومیت کو داغدار کر دیا گیا تھا۔ اور داغدار کرنے والا کوئی اور نہیں اس کا وہ استاد تھا جس کی عزت کرنے کا درس اس کی ماں صبح شام دیتی تھی۔

سارا واقعہ سنتے ہی اس کی ماں گنگ سی ہو گئی۔ اس نے دوپٹے کا پلو سر پر رکھا، اس کا ہاتھ تھاما اور مدرسے کی جانب چل پڑی۔ وہ اتنا ڈرا ہوا تھا کہ اس نے اپنی ماں کو روکنے کی کوشش کی کہ وہاں نہ جاۓ ورنہ استاد جی اس کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

اس کی ماں نے استاد جی کے کمرے کا دروازہ کھٹکٹایا ۔ اس کو دیکھتے ہی استاد جی کی تیوری پر بل پڑگۓ ۔ اس کی ماں کے کچھ بھی بولنے سے پہلے انہوں نے بولنا شروع کر دیا کہ یہ لڑکا ٹھیک سے پڑھائی نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ ۔ مگر میری ماں نے اورماؤں کی طرح استاد جی کی بات پر یقین کرنے کے بجاۓ ان کو کہا کہ مجھے یقین ہے کہ میرے بیٹے نے جو کہا ہے۔ آپ نے ایسا کیوں کیا مجھے جواب دیں یا میں تھانے جاؤں ۔

امی کی بات سنتے ہی استاد جی کا لہجہ ایک دم بدل گیا۔ انہوں نے امی سے کہا کہ بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں ۔آپس کی بات ہے تھانے جانے کو چھوڑو۔ مگر میری امی نے میرا ہاتھ تھاما اور واپس تھانے کی جانب روانہ ہو گئیں۔ میں بری طرح خوفزدہ تھا۔

جب تھانے گۓ اور امی نے سارا واقعہ ان کو سنایا تو تھانے دار نے امی کو ایک ہی بات کی کہ باجی کوئی بھی تمھاری بات پر اعتبار نہیں کرۓ گا۔ اس لۓ بہتر یہ ہے کہ تم استاد جی کے ساتھ صلح کر کے بات ختم کر دو ہم اس کے خلاف پرچہ نہیں کاٹیں گے ۔

میری امی بہت روتی رہیں کسی نے نہیں سنا ۔ آحر میں نے اپنی امی کا ہاتھ پکڑا اور ان کو لے کر گھر کی جانب بڑھ گیا ۔

To Top