Parhlo Urdu

کیا آپ جانتے ہیں کہ آج کا بچہ کس کس نعمت سے محروم ہے

اکیسویں صدی اپنے اندر بہت سارا تغیر لے کر آئی۔یہ اسی صدی کا معجزہ ہی تو ہے کہ اس نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے ۔آج کا بچہ ہمارے دور سے زیادہ معلومات رکھتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاس وقت گزاری کے لۓ بہت کچھ ہے مگر جب ہم اپنے وقت کا موازنہ ان بچوں کے وقت کے ساتھ کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ بہت سی ایسی نعمتوں سے محروم ہیں جن سے ہم فیضیاب ہوتے رہے ہیں ۔

آج کا بچہ بچوں کے رسالوں سے محروم ہے

لوگ جس طرح تنخواہ کے لۓ مہینے کے آغاز کا انتظار کرتے ہیں ۔اسی طرح ہمیں بچوں کے رسالوں کی آمد کا انتظار ہوتا تھا ۔ نونہال ۔تعلیم و تربیت، آنکھ مچولی یہ سب وہ رسالے تھے جو ایک مہینے کے انتظار کے بعد آتے تھے اور ایک دن میں ختم ہو جاتے تھے ۔مگر ان کے سبب جو بہتری ہماری زبان دانی میں آئی اس کے لۓ ہم آج بھی ان مولفین کے مشکور ہیں ۔

بدقسمتی سے آج کا بچہ ایسے کسی بھی ذریعے سے محروم ہے ۔موبائل ایس ایم ایس کے نام پر انگریزی نما اردو کا جو ملغوبہ اس کے اندر محفوظ ہوتا جا رہا ہے وہ اردو زبان ،جو کہ ہماری حقیقی شناخت ہے ،کے لۓ انتہائی نقصان دہ ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ کہانی پڑھنے کے سبب اس کی قوت تخیل میں جو اضافہ ہوتا تھا ۔آج کا بچہ اس سے بھی محروم ہے

آج کا بچہ بیرون خانہ  کھیلوں سے محروم ہے

کرکٹ ،ہاکی ،فٹ بال ،پٹھو گرم ،گلی ڈنڈا دوڑ کے مقابلے یہ سب وہ تعیشات تھے جو ماضی کے بچوں کو تو حاصل تھے مگر آج کا بچہ ان سب سے محروم ہے ۔سب سے پہلے تو امن و امان کے حالات کے سبب مجھ سمیت تمام والدین یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ بچہ گھر سے نہ ہی نکلے تو بہتر ہے ۔

اس کے بعد کھیل کے میدانوں کی کمیابی اور موبائل فون ،کمپیوٹر اور ٹیبلٹ جیسی سہولیات نے بچے کو سست الوجود بنا دیا ہے ۔اب بیرون خانہ کھیل اس کے نازک جسم کے لۓ انتہائی دشوار ہوتے جارہے ہیں ۔

آج کا بچہ اصلی غذاؤں سے محروم ہے

آج کے بچے کے لۓ مائیں نوڈلز ، نگٹس اور زنگر کے نام پر جو کچھ کھلا رہی ہیں وہ کبھی بھی اس کی غذائي ضروریات کی تکمیل اس طرح نہیں کر سکتی ہیں جس طرح دال ، سبزیاں اور گھریلو پکوان کرتے ہیں ۔ہم نے اپنے بچوں کو فیشن کی آڑمیں ان تمام لزتوں سے محروم کر دیا ہے ۔

آج کا بچہ جتنے شوق سے بازار سے ملنے والے مشروبات پیتا ہے اسی بچے کو اگر ایک گلاس لسی پلا دی جاۓ تو یا تو اس کا سینہ خراب ہو جاتا ہے یا پھر پیٹ ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم نے ان چیزوں کے ذریعے بچے کے جسمانی نظام کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے ۔

یہ سارے معاملات تو صرف جسمانی ہیں ۔ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے بھی ہم نے بچے کو معاشرے سے جدا کر کے رکھ دیا ہے ہمارے بچے سوشل میڈیا کے تو شیر ہو گۓ لیکن اگر انہیں کہیں بیٹھ کر چار افراد کے سامنے بھی اپنا نقطہ نظر بین کرنا پڑ جاۓ تو وہ اس کی قابلیت خود میں نہیں پاتے ۔

آج کا بچہ ہماری ذمہ داری ہے ۔ہمارا فرض ہے کہ اس کو وہ سب سہولیات مہیا کریں جو کہ ان کے لۓ ضروری اور ان کی تربیت کے لۓ لازم ہے ۔

About Editor

To Top