کیا آپ جانتے ہیں کہ جان بچانے والی ادویات جان لے بھی سکتی ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ جان بچانے والی ادویات جان لے بھی سکتی ہیں؟

انسان جب بھی کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معالج کے پاس جا کر اس بیماری کا علاج کروا کر سکون حاصل کر سکے ۔ مگر بعض حالات میں یہی جان بچانے والی یہ ادویات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں ۔

جلدی امراض کی کریم سے جسم کو آگ بھی لگ سکتی ہے

جلدی امراض جیسے ایگزیما، داد اور کھجلی کی بیماری میں جو کریم لگائی جاتی ہے اس کے اندر پیرافین نامی کیمیکل موجود ہوتا ہے جو کہ فوری طور پر آگ پکڑ سکتا ہے لہذا ان کریموں کو لگا کر اگر کوئی آگ کے قریب جاتا ہے تو اس کے جل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔

سال 2010 سے لے کر اب تک دنیا بھر میں تقریبا 37 اموات اسی سبب ہو چکی ہیں لہذا میڈیسن اینڈ ہیلتھ کئیر ریگولیٹری ایجنسی نے تمام دوا ساز کو اس بات کے لۓ پابند کیا ہے کہ ان تمام ادویات پر آگ لگنے کے خطرے کا تنبیہہ  کا نشان ضرور ہونا چاہۓ تاکہ اس کو لگا کر مریض آگ کے قریب نہ جائیں ۔

درد کش ادویات کے استعمال سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

عموما درد کی حالت میں خود تشخیصی کے سبب ذیادہ تر لوگ چھوٹے موٹے درد کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجاۓ آئیبروفن ، نیپروکسن اور ڈائکلوفینک جیسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں ۔ان ادویات کو اینٹی انفلیمنٹری درد کش ادویات بھی کہا جاتا ہے ۔

ماہرین کی تحقیق کے مطابق ان ادویات کے استعمال کرنے والے لوگوں میں یہ دوائيں  نہ استعمال کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا خطرہ 19 فی صد زیادہ ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ 65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں دل کے دورے کا خطرہ اس سے زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔

اسی سبب ہمیشہ تمام ادویات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کرنا چاہۓ اور کسی بھی قسم کے سائڈ افیکٹس کی صورت میں دواؤں  کا استعمال فوری طور پر روک کر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہۓ

 

To Top